We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
میرا خیال ہے، گولن تحریک کو سوشیو ایجوکیشنل تحریک (socio-educational movement) کہا جا سکتا ہے۔ مسٹر علی نے اس سے اتفاق کیا۔
ترکی میں آج غروبِ شام کو 8 بجے تھا۔ مغرب کے بعد ہم نے یہاں رات کا کھانا (dinner) کھایا۔ یہاں ایک خوب صورت ریستوراں تھا۔ اس طرح کے ریستوراں میں اکثر کافی شور رہتا ہے، مگر یہاں ہمیں شور کا تجربہ نہیں ہوا۔
گفتگو کے دوران مسٹر علی سے میں نے کہا کہ نومبر 2008 میں میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ قبرص (Cyprus) گیا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ قبرص کے مشرقی حصے پر، جو کہ قبرص کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے، اس پر ترکوں کا قبضہ ہے۔ یہ قبضہ 1974 سے قائم ہے۔ اس کی وجہ سے قبرص کے مسیحی لوگوں میں ترکی کے خلاف منفی جذبات پائے جاتے ہیں۔ میں نے کہا قبرص پر اس قبضے کو میں ترکی کے لیے ایک سیاسی بوجھ (political liability) سمجھتا ہوں، وہ جدید ترکی کے لیے کوئی قیمتی اثاثہ (asset) نہیں۔ ترکی کو چاہیے کہ وہ قبرص میں اپنے قبضے کو چھوڑ دے اور اس کے بعد وہاں پر امن انداز میں دعوہ ورک کرے۔ مسٹر علی نے اس رائے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دعوت کو عام طور پر لوگ تبدیلی مذہب (conversion) کے ہم معنی سمجھتے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ دعوت دراصل نظریے کا ایکسچینج (exchange of thought) ہے۔ ہر ایک کو یہ حق ہے کہ وہ سچائی کے بارے میں اپنی دریافت (discovery) کو پر امن طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ داعی کو جاننا چاہیے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں دعوت کا کام کر رہا ہے جہاں ہر ایک کو خود خدا کی طرف سے مکمل آزادی (total freedom) حاصل ہے۔ کوئی داعی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ مدعو کی آزادی کو اُس سے چھین لے۔ ایسی حالت میں دعوہ ورک ففٹی ففٹی کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی پچاس فی صد داعی کی طرف سے دعوت اور پچاس فی صد مدعو کی طرف سے قبولیت (acceptance)۔ میں نے مزید کہا کہ پوری تاریخ عملی طور پر ناکامی کی تاریخ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues