Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

نظر آتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے قابل حصول اور ناقابل حصول کے درمیان فرق نہیں کیا۔ انھوں نے ناقابل حصول کو اپنا نشانہ بنا لیا، حالاں کہ انھیں صرف قابل حصول کو اپنا نشانہ بنانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں آئیڈیل (ideal) کا حصول ممکن نہیں۔ جو آدمی آئیڈیل کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔

چمل جہ (Camlica) سے روانہ ہو کر ہم لوگ رات کو 10 بجے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ایک مجلس میں میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا ایک تاثر اس طرح بیان کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں کمائی کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ساری دنیا میں ایک ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ ہے ذہنی ارتقا کا رک جانا۔ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے، اعلی درجے کے لوگ پیدا نہیں ہورہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس زمانے میں تقریباً ہر آدمی پروفیشنل (professional) بنا ہوا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو ایک شخص نے حیوان کا سب (earning animal) کا نام دیا تھا۔ اس کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا ذہنی ارتقا رک گیا ہے۔ اس مسئلے کو ایک لفظ میں ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کہا جا سکتا ہے۔ اگلے دن 2 مئی 2012 کی صبح کو 9 بجے ہوٹل سے گولن تحریک کے تحت قائم اکیڈمی (Akademi) کے لیے روانگی ہوئی۔ ہوٹل سے اکیڈمی بذریعہ کار 15 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ یہاں صبح کا ناشتہ کیا گیا۔ اس دوران ہر ایک نے مختصر انداز میں اپنا تعارف پیش کیا۔ میں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی داعی ہوں، یعنی مزاج کے اعتبار سے صوفی اور اپنے مشن کے اعتبار سے داعی۔ یہاں اکیڈمی کے ارکان کے علاوہ، افریقہ کے مختلف ملکوں کے نمائندہ افراد اور الجزائر کے لوگ بھی موجود تھے۔ یہ لوگ کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی آئے تھے۔

ناشتے کے بعد یہاں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا موضوع تھا_ ’’اسلام میں حکمت (wisdom) کی اہمیت‘‘۔ میں نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ اُس کا عربی ترجمہ اُسی وقت پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے کیا۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page