Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ترجمے کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں۔

اس تقریر میں میں ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عسر کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود ہوتا ہے (فإن مع العسر يسراً، إن مع العسر يسراً)۔ اس لیے تم عسر(problem) کو نظر انداز کرو اور یسر(opportunity) کو دریافت کرکے اس کو استعمال کرو۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر عسر کے اعلان کو سب سے بڑا کام سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک عرب عالم عبد الرحمن الحبنکہ نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: الأفاعي الثلاثة (تین بڑے سانپ)۔ میں نے تقابلی طور پر کہا کہ حضرت موسیٰ کو جادوگروں کے سانپ کو دیکھ کر خوف لاحق ہوا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم اپنا عصا ڈال دو، وہ اس سانپ کو نگل جائے گا (7:117)۔ میں نے کہا کہ خاتم النبیین کی امت کے پاس بھی ایک عصا ہے اور وہ قرآن ہے۔ قرآن ہر زمانے کے ”افاعی“ کو نگل جانے کے لیے کافی ہے، مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ یہ 45 منٹ کی تقریر تھی۔ مجلہ حراء کے مدیر مسٹر نوزاد صواش اس پروگرام کو کو آرڈی نی ٹ کر رہے تھے۔ انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: نقتبس الحكمة من داعية الحكمة۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام آدھ گھنٹے تک جائی رہا۔ لوگوں نے مختلف سوالات کئے۔ ڈاکٹر محمد موسیٰ باباعمی (جنرل ڈائریکٹر معہد المناہج، الجزائر) نے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں قرآن کو ’کتاب الثورة‘ کہا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن بلاشبہہ ایک انقلابی کتاب ہے، لیکن وہ فکری معنوں میں انقلابی کتاب ہے، نہ کہ سیاسی معنوں میں۔ قرآن آدمی کو ایک آئڈیا لوجی دیتا ہے اور یہ آئڈیا لوجی مبنی بر فطرت ہونے کی وجہ سے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرتی ہے۔ اس طرح قرآن، آدمی کے اندر ایک فکری بھونچال پیدا کر کے اس کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس پروگرام کے بعد اکیڈمی کے اوپر ی منزل کے ایک غرفہ (upper chamber) میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page