Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ایک مخصوص نشست ہوئی۔ یہ ایک کانفرنس روم تھا۔ اس کی دیواریں چاروں طرف بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے جہاں سے استنبول شہر کا خوب صورت منظر دکھائی دے رہا تھا۔ اس پروگرام میں مجلہ ”حراء“ کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش نے عربی زبان میں گولن تحریک کا مختصر تعارف پیش کیا، اور تحریک کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا کہ گولن تحریک کا مقصد ہے— غیر سیاسی دائرے میں رہتے ہوئے سماجی خدمت اور تعلیم کا فروغ۔

مسٹر نوزاد صواش استاد محمد فتح اللہ گولن کے براہ راست شاگردوں میں سے ہیں۔ انھوں نے استاد فتح اللہ گولن کے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ استاذ کا حافظہ بہت اچھا ہے ۔ ان کے اندر فوٹو گرِفک میموری (photographic memory) پائی جاتی ہے۔ اسی طرح وہ ایک اعتدال پسند آدمی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ استاذ فتح اللہ ایک حوصلہ مند (ambitious) طبیعت کے آدمی ہیں۔ کسی ایک حد پر رکنے کے بجائے ہمیشہ ان کی نگاہ آگے کی طرف رہتی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے مختلف زبانوں میں کئی ٹی وی چینل شروع کیے۔ ہم نے استاذ فتح اللہ گولن کو جب اس کی خبر دی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ہم میڈیا کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ہم کو اسی پر اکتفا نہیں کرنا ہے، بلکہ ہم کو ابھی اس میدان میں بہت آگے بڑھنا ہے۔ اس سلسلے میں مسٹر نوزاد صواش نے کہا کہ: لا يفرح الأستاذ من الإنجاز، بل يتطلع دائما إلى الإنجازات۔ اس میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کانفرنس کا پروگرام کیا ہو گا۔

یہاں کئی عرب فضلا سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً کویت کے عربی مجلہ : الوعي الإسلامي (1965) کے مدیر فیصل یوسف احمد العلی، اور ڈاکٹر محمد وائل الحنبلی الدمشقی۔ ملاقات کے دوران فیصل یوسف العلی نے بتایا کہ وہ میری کتاب الاسلام يتحدى پڑھ چکے ہیں۔ الحنبلی اس وقت ترکی کے جامعہ سلجوق میں حدیث کے موضوع پر توسیعی لیکچر دے رہے ہیں۔

اس موقع پر میں نے آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ میری تقریر انگریزی زبان میں تھی۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے میری تقریر کا ترجمہ عربی زبان میں کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page