We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
مؤسسة الفرات التربوية التعليمية (Firat Education Centre) کے نام سے ایک بڑا تعلیمی سنٹر قائم ہے۔ یہ جدید طرز ایک کئی منزلہ عمارت ہے۔ اس عمارت کی پانچویں منزل پر کانفرنس میں شریک ہونے والے مختلف ملکوں کے نمائندہ افراد کی ملاقات کا ایک پروگرام تھا۔ استنبول میں استاذ محمد فتح اللہ گولن کا قیام اسی منزل پر ہوتا ہے۔
یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ مغرب کی نماز ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے پڑھائی۔ نماز کے بعد یہاں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مثلاً شیخ ابراہیم صالح الحسین (نائیجیریا، افریقہ)، شیخ عبد الناصر ابو الفیصل (رئيس الجامعة، جامعة العلوم الاسلامیہ العالمية، اردن) سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ کی کتاب الاسلام متحدی پڑھی ہے۔
نماز کے بعد اسی تعلیمی سنٹر میں ترکی کے ایک ٹی وی چینل (Samanyolu TV) نے میرا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا جو ترکی میں نشر کیا گیا۔ انھوں نے خاص طور پر تین چیزوں کے بارے میں پوچھا۔ استاذ فتح اللہ گولن، ترکی اور دعوت الی اللہ۔ استاذ فتح اللہ کے بارے میں میں نے کہا کہ میرے مطالعے کے مطابق، استاذ گولن بلا شبہہ ایک تخلیقی مفکر ہیں۔ اسی طرح میں نے بتایا کہ ترکی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکی کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ مشرق کے ربانی وزڈم کو مغرب کے لوگوں تک پہنچائے۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے چینل کے لوگوں کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔
انٹرویو کے بعد اسی مرکز میں شام کے کھانے (dinner) کا انتظام تھا۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم لوگوں کو ایک ہال میں لے جایا گیا۔ یہاں دیوار پر لگے ہوئے ایک بڑے اسکرین پر استاذ فتح اللہ گولن کا ایک ویڈیو دکھایا گیا۔ یہ ان کی ایک پرانی تقریر کا ویڈیو تھا۔ یہ تقریر ترکی کی زبان میں تھی، جس کا عربی ترجمہ اسکرین پر ساتھ ساتھ آرہا تھا۔
یہ تقریر قرآن کے موضوع پر تھی۔ تقریر کا اسلوب واعظانہ تھا، مگر وہ مسحور کن تھا۔ اس میں باڈی لینگویج (body language) کا بہت زیادہ استعمال پایا جاتا تھا۔ تقریر کے دوران مقرر خود
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues