We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
اندر ایک بڑے کمرے میں حضرت ایوب کی قبر ہے۔ یہاں اُس وقت کچھ تعمیری کام ہو رہا تھا، اس لیے باہر لگی ہوئی ایک جالی سے ہم لوگوں نے قبر کو دیکھا۔ یہ ایک اونچی قبر تھی جو ہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ جالی کے ایک طرف ترکی زبان میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Duâ Kapisi۔ ہمارے ساتھی مسٹر علی نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے: دعا کا دروازہ۔ میں نے دیکھا کہ ترکی لوگ اور دوسرے زائرین یہاں آتے تھے اور خاموشی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کر کے چلے جاتے تھے۔ مقبرے کے سامنے ایک چھوٹا سا احاطہ ہے۔ اس میں ایک قدیم درخت لگا ہوا ہے۔ یہ درخت 5 سو سال پرانا ہے۔ اس کو سلطان محمد فاتح نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ اس احاطے کے سامنے قدیم طرز کی ایک بڑی مسجد ہے۔ اس کو سلطان محمد فاتح نے 1458 عیسوی میں بنوایا تھا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے اس مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی۔ میں نے نماز کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ اُس وقت خیال آیا کہ اب سے 14 سو سال پہلے عرب کی ایک جماعت کس طرح یہاں آئی اور کس طرح انھوں نے یہاں دینِ اسلام کی اشاعت کی۔ یہ سوچتے ہوئے میرا دل بھر آیا۔ اُس وقت آنسوؤں کے ساتھ میری زبان سے یہ دعا نکلی۔ خدایا، تو مجھ کو اور میرے مشن میں ساتھ دینے والے تمام مردوں اور عورتوں کو صحابہ کے اُس دعوتی قافلے میں شامل فرما۔ وما ذلك على الله بعزيز۔ مسجد کے اندر کچھ عورتیں اور مرد بھی ذکر و دعا میں مشغول نظر آئے۔ مسجد کے عقبی حصے میں ایک قبرستان ہے۔ یہاں بہت سے ترک علما اور کچھ مشہور عثمانی خاندان کے حکمرانوں کی قبریں ہیں۔ ترکی میں عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299ء میں قائم ہوئی، اور 1924ء میں عملاً وہ ختم ہوگئی۔ ترکی میں سلطان محمد فاتح (وفات: 1481) کے وقت سے یہ طریقہ رائج تھا کہ جب کوئی سلطان تخت نشیں ہوتا تو اُس وقت جامع ایوب (مقبرہ حضرت ایوب انصاری) پر اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کی جاتی۔ یہاں شیخ الاسلام (مفتی اعظم قسطنطنیہ) خاندان عثمانی کے بانی سلطان عثمان خان (وفات: 1326) کی تاریخی تلوار اس کی کمر میں حمائل کرتے۔ یہ شاہی رسم سلطان کی تاج پوشی کا لازمی حصہ تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues