We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
حضرت ابو ایوب کا پورا نام خالد بن کلیب بن ثعلبہ ہے۔ ان کا تعلق مدینہ کے بنی نجار قبیلے سے تھا۔ وہ مدینہ میں رہتے تھے۔ انھوں نے بدر وا حد اور خندق اور دوسرے تمام غزوات میں شرکت کی۔ وہ ایک بہادر انسان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 622 میں جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو ابتداء آپ نے ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام کیا۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں حضرت ابو ایوب انصاری یزید بن معاویہ کے ساتھ صحابہ کے ایک قافلے میں قسطنطنیہ کے لیے دعوتی مہم پر روانہ ہوئے ۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 80 سال تھی۔ صحابہ کے اس قافلے میں دوسرے صحابہ کے علاوہ، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حسن اور حسین بھی شامل تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری راستے میں بیمار ہو گئے ۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ اگر راستے میں میری موت آجائے تب بھی مجھ کو اپنے ساتھ منزل (ارض روم، قسطنطنیہ ) لے جانا اور وہیں مجھ کو دفن کرنا ۔ چناں چہ انتقال کے بعد ان کی تدفین قسطنطنیہ (استنبول) میں کی گئی۔ یہ 52 ہجری ( 672 عیسوی) کا واقعہ ہے۔ جامع ایوب کو دیکھنے کے بعد ہم لوگ استنبول کی ایک تاریخی مسجد کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس کا نام رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque) ہے۔
The Rüstem Pasha Mosque is an Ottoman mosque located in Strawmat Weavers Market in the Tahtakale neighborhood, of the Eminönü district of Istanbul, Turkey. The Rüstem Pasha Mosque was designed by Ottoman imperial architect Mimar Sinan. Rüstem Pasha died in July 1561 and the mosque was built after his death from around 1561 until 1563. یہاں مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں کے دیگر ائمہ مساجد کی طرح کوٹ پتلون پہنے ہوئے تھے۔ تاہم مزاج کے اعتبار سے وہ نہایت سادہ تھے۔ ہم لوگوں کی تواضع کے لیے انھوں نے چائے کے ساتھ بھنی ہوئی مونگ پھلی پیش کی۔ مجھے ان کی یہ سادہ تواضع بہت پسند آئی۔ سادہ تواضع ہی اسلام کی اسپرٹ کے مطابق ہے، مگر موجودہ زمانے میں سادہ تواضع کا طریقہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues