We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
مسلمانوں میں تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔
سی پی ایس کے ایک ممبر ڈاکٹر ثانی اثنین خاں اس سے پہلے استنبول آئے تھے۔ انھوں نے امام صاحب کو ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کی کاپیاں دی تھیں۔ ہم وہاں پہنچے تو یہ ترجمہ قرآن وہاں مسجد کے گیٹ پر ایک اونچی جگہ پر رکھا ہوا نظر آیا۔ اس مسجد میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ یہ سیاح بھیڑ لگا کر قرآن کا انگریزی ترجمہ یہاں سے لے رہے تھے۔ استنبول کے ایک بڑے پریس (Imak Offset) نے یہ پیش کش کی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کے لیے جتنے بھی انگریزی ترجمہ قرآن کی ضرورت ہوگی، وہ اُس کو نو پرافٹ، نو لاس (no profit, no loss) کی بنیاد پر چھاپ کر دیں گے۔
مسجد کے امام اسماعیل (Ismail Karakelle) ترجمہ قرآن کو پھیلانے کا کام نہایت ذوق وشوق سے کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ سیاحوں کو قرآن اپنے ہاتھ سے دیتے تھے تو سیاح کم دلچسپی لیتے تھے، پھر انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ بنایا اور اس میں قرآن کا نسخہ رکھ دیا۔ یہ بیگ سیاحوں کے ذوق کا ہے، اس لئے وہ اس کو بخوشی لے لیتے ہیں۔ جس مقام پر قرآن کے نسخے رکھے گئے ہیں، وہاں پر بڑے حروف میں یہ الفاظ لکھ دئے گئے ہیں: Free Spiritual Gift امام صاحب نے کہا کہ ہم اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر ایک وقف بنا دیا جائے، تاکہ اس کے تحت ترکی کے ہر تاریخی مقام پر سیاحوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جاسکے۔ رستم پاشا مسجد میں جب میں آیا تو میں نے دیکھا کہ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں اور جب وہ مسجد کو دیکھ کر واپس ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں قرآن کا ایک نسخہ ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ مسجد پہلے صرف ایک عبادت خانہ تھی، مگر اب وہ ’مسجد پلس‘ ہوگئی ہے۔ وہ مسجد کے ساتھ قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک عالمی سنٹر بن گئی ہے۔ امام صاحب نے بتایا کہ مسجد کے علاوہ بھی وہ یہاں قرآن کا ترجمہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً حال میں استنبول کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues