Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ایک مقام پر سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں غیر ملکی لوگ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر انھوں نے ایک ہزار لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا۔ امام صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک بات یہ کہی کہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2011 میں 31 ملین سے زیادہ غیر ملکی سیاح ترکی میں آئے۔ یہ لوگ معروف معنوں میں صرف سیاح نہیں، بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک سے نکل کر یہاں آتے ہیں اور ہمارے دروازےپر آکر دستک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے حاملینِ قرآن، ہم یہاں ہیں، لاؤ تم ہم کو خدا کا وہ کلام دو جو تم کو پیغمبر اسلام کے ذریعے ملا ہے۔ امام صاحب نے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آنے والے سیاح نہ صرف یہ کہ ہمارے ملک میں آ کر ہم کو دستک دے رہے ہیں، بلکہ وہ ہماری مسجدوں میں داخل ہو کر ہم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور قرآن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کا دعوتی ماحول ہر مسلم ملک میں موجود ہے، مگر مذہب کے نام پر ہونے والی باہمی لڑائیوں نے وہاں کے مسلمانوں کو دعوتی مزاج سے محروم کر رکھا ہے، جب کہ ترکی میں کمال آپریشن کے بعد آنے والے کھلے پن (openness) کی وجہ سے یہاں دعوت کے موافق ماحول موجود ہے۔

ترکی میں کثرت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چناں چہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ: ”ترکی میں سیاحت یا ملازمت کی غرض سے آنے والے غیر مسلم ہر دن اپنے اطراف میں آباد مساجد سے پانچ دفعہ اذان کی آواز سن کر اس سے متاثر ہوتے ہیں اور دینِ اسلام کے بارے میں مزید معلومات کے حصول کی جستجو کرتے نظر آتے ہیں۔ چناں چہ اب صورتِ حال یہ ہے کہ غیر ملکی افراد کی قابلِ ذکر تعداد مقامی دار الافتا کے دفتر میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کی غرض سے آنے لگی ہے، جن میں اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ چناں چہ ترکی حکومت کے شعبہ برائے اسلامی امور کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے ایک سال میں 634 غیر ملکی افراد اسلام قبول کر چکے ہیں، جن میں 467 خواتین ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page