Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ان افراد کی عمر 30 تا 35 سال بتائی گئی ہے۔ ان کا تعلق جرمنی، ہالینڈ، فرانس، چین، برازیل، امریکا، رومانیہ اور اسٹونیا سے بتایا جاتا ہے۔ یہاں کے مفتی علی مرا شلیگل نے بتایا کہ اسلام کی جانب ان کے رجحان کا آغاز عموماً اذان کی آواز کا سننا ہوتا ہے، دوسرے مرحلے میں مسجد کے امام سے رابطہ، قرآن مجید کا مطالعہ اور پھر اسلام کے قبول کرنے کا اعلان ہوتا ہے“۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 مئی 2012، صفحہ 19) یہ واقعہ فطرت کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ شامل ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کرے۔ یہ فطری طلب گویا پیشگی طور پر ہر انسان کے لیے سچائی کو اس کا مطلوب بنائے ہوئے ہے۔ جیسے ہی کسی انسان کو سچائی اپنی بے آمیز صورت میں ملتی ہے، وہ اس کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور بلاشبہ یہ یہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

رستم پاشا مسجد سے نکل کر ہم لوگ استنبول کے مشہور سائنسی میوزیم کو دیکھنے کے لئے گئے۔ اس میوزیم کا نام یہ ہے:

The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam. یہ میوزیم ایک بڑے رقبے میں واقع ہے۔ اس کا نام گل خانہ پارک (Rose Garden) ہے۔ یہ ایک وسیع اور پر فضا مقام ہے۔ یہاں پارک میں چنار کے درخت کثرت سے موجود ہیں۔ یہ میوزیم ایک ترکی سلطان کے قدیم محل میں بنایا گیا ہے۔ اس کے اندر مسلمانوں کی سائنٹفک اور ٹکنیکل ترقی کے نمونے موجود ہیں، جو کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر سترھویں صدی عیسوی کے دور تک محیط ہیں۔

اس میوزیم کو مشہور تر کی اسکالر ڈاکٹر فواد سیز گین (Fuat Sezgin) نے 2008 میں قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر فواد سیز گین 1924 میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں وہ استنبول سے جرمنی منتقل ہو گئے۔ اُس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page