We cannot afford freedom
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
وقت سے اب تک وہ فرینکفرٹ یونی ورسٹی (Johann Wolfgang Goethe University) میں ہسٹری آف نیچرل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے ترکی کے علاوہ، جرمنی میں ہسٹری آف عرب اسلامک سائنس کے موضوع پر 1982 میں ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر فؤاد سیزگین کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی مشہور کتاب "تاریخ التراث العربی" ہے۔ اس تاریخی میوزیم کے تعارفی پمفلٹ کے آخر میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Thanks to this Museum, Istanbul has been enriched by yet another bridge between East and West, one which explores the deep historical relationship of the scientific traditions in eastern and western cultures. ترکی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک کلچرل برج (cultural bridge) ہے۔ اس کے علاوہ، اُس کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق کے وزڈم (wisdom) کو مغرب تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے تحت قائم کردہ القرآن مشن (Al-Quran Mission) اِسی تعلق کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ استنبول کے اِس تاریخی میوزیم کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ڈاکٹر فؤاد سیزگین اور ان کے ساتھیوں نے بلاشبہ ایک بہت بڑا کام انجام دیا ہے۔ انھوں نے علم کے معاملے میں مسلمانوں کے تاریخی کنٹری بیوشن کو بتایا ہے۔ یہ میوزیم عملی طور پر بتاتا ہے کہ مسلمانوں نے قدیم اور جدید سائنس کے درمیان کس طرح پل کا کام انجام دیا۔
سائنس میوزیم دیکھنے کے بعد ہم لوگ ایک ریستوراں (Can Kurtaran) کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ نئے انداز کا ایک اوپن ریستوراں ہے جو بحر مرمر اکے کنارے واقع ہے۔ اِسی ریستوراں کے قریب وہ تاریخی مسجد واقع ہے جس کو آ یا صوفیہ اور مسجد سلطان احمد کہا جاتا ہے۔ اِس ریستوراں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔
کھانے سے پہلے اپنے میزبان (مسٹر علی اکین) کے سامنے میں نے یہ تجویز پیش کی کہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues