Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ہم لوگ اس وقت 6 آدمی ہیں ۔ آپ صرف 4 کھانا منگوایئے ۔ وہ ہم سب کے لیے کافی ہو جائے گا ۔ حدیث میں آیا ہے : طعام الواحد يكفي الاثنين (صحيح مسلم، رقم الحديث : 2059) مگر یہ بات عام رواج کے خلاف تھی ، اس لیے میری تجویز کے خلاف زیادہ کھانا آ گیا۔ اس معاملے میں ایک طریقہ یہ ہے کہ کھانا بقدرِ ضرورت منگایا جائے ، تا کہ وہ ضائع نہ ہو ۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو امریکا میں رائج ہے ۔ وہاں لوگ بچے ہوئے کھانے کو رکھ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اگلے وقت اس کو استعمال کرتے ہیں ، اس کے لیے میزبان اور ہوٹل دونوں نہایت خوشی سے ایک خوب صورت بیگ مہیا کر دیتے ہیں ۔

یہاں ترکی کے ایک پبلشر اور مصنف مسٹر محمد امین اپنے والد کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے آگئے تھے ۔ وہ کھانے میں شریک رہے اور آخر میں کھانے کا بل بھی انھوں نے ادا کیا ۔ بعد کو انھوں نے مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو استنبول میں واقع اپنے گھر پر آنے کی دعوت دی ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میری ایک کتاب کا ترجمہ انھوں نے ترکی زبان میں چھاپا ہے۔ انھوں نے کتاب کا مضمون بتایا ، لیکن کتاب کا نام ان کو یاد نہیں تھا ۔ اُس وقت کھانے کی میز پر بیٹھے بیٹھے میرے ایک ساتھی مسٹر رجت ملہوترانے ڈاکٹر ثانی اثنین خاں کو دہلی ٹیلی فون کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کا اصل نام ” نحو البعث الإسلامي “ ہے۔

اس تجربے کے بعد میں نے کہا کہ استنبول اور دہلی کے درمیان تقریباً 5 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ جدید ٹکنالوجی کا کرشمہ ہے کہ اتنی دوری کے باوجود ایک لمحے میں دونوں کے درمیان گفتگو ہو گئی ۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی بے شمار نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ظاہر کی ہیں۔ مگر ان نعمتوں پر خدا کا شکر کرنے والا کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا ، نہ مسلمانوں میں اور نہ دوسرے لوگوں میں ۔ مسلمان اپنے قومی ذہن کی بنا پر حقیقی شکر سے محروم ہیں اور دوسرے لوگ اپنے تفریحی ذہن کی بنا پر ۔ میں نے کہا اللہ کے عطیات پر آدمی اگر شکر کا رسپانس نہ دے سکے ، تو وہ اس آیت کا مصداق بن کر رہ جائے گا : يتمتعون ويأكلون كما تأكل الأنعام (47:12)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page