Al-Risala · September 2012 · page

We cannot afford freedom

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

3 مئی 2012 کو استانبول کے دوسرے تاریخی مقامات کو دیکھنے کا پروگرام تھا، مگر بعض وجوہ سے آج اس پروگرام کو ملتوی کر دیا گیا۔ چناں چہ ہم لوگ ریستوراں سے روانہ ہو کر 5 بجے شام کو ہوٹل آ گئے۔ راستے میں گاڑی کے اندر میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 1924 میں جب ترکی میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تو ساری دنیا کے مسلمانوں نے اس کو ’اسلام دشمنوں کی سازش‘ کے معنی میں لیا، حالاں کہ وہ قانونِ فطرت کا ایک معاملہ تھا۔ وہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان سیاسی رول کے بجائے دعوتی رول ادا کرنے کی تیاری کریں۔ مگر مسلمان، فطرت کے اس اشارے کو سمجھ نہ سکے اور سارا وقت شکایت اور احتجاج میں ضائع ہو گیا۔ جس طرح سورج کا نکلنا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ لوگ نئے دن میں نیا کام کریں۔ اسی طرح خلافت کے سیاسی ادارے کا خاتمہ اس بات کا اشارہ تھا کہ مسلمان نئے مواقع کو سمجھیں اور دورِ جدید میں ان کو دعوتِ الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔

ترکی میں ہم لوگوں کے لیے ہر قسم کی سہولتوں کا انتظام تھا، لیکن حقیقی سکون پھر بھی حاصل نہیں تھا۔ اس پر بات کرتے ہوئے میرے ساتھی مولا نا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ۔ انسان غیر جنت کا تحمل بھی نہیں کر سکتا، پھر وہ جہنم کا تحمل کیسے کر سکے گا۔ یہ صورتِ حال بلاشبہ ایک عظیم دعا کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ ہے ۔ جنت کی دعا۔ مومن وہ ہے جس کو دنیا کا ہر خوش گوار تجربہ جنت کی یاد دلائے اور ہر ناخوش گوار تجربہ اس کے اندر جہنم سے پناہ مانگنے کا شدید جذبہ پیدا کر دے۔

3 مئی 2012 کو ہم لوگ واپس ہو کر اپنے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی ۔ اس کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے کے اُس حصے میں بیٹھ گئے جہاں سے باسفورس کا منظر نہایت صاف دکھائی دیتا تھا۔ اُس وقت میں نے گفتگو کے دوران اپنے ساتھیوں سے کچھ باتیں کہیں جس کو انھوں نے اِسی وقت ریکارڈ کر لیا۔ یہ باتیں زیادہ تر تذکیری اور دعوتی نوعیت کی تھیں۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ مجھے آج کی مسلم دنیا میں دو مقامات ایسے دکھائی دے رہے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page