Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
جہاں سے اسلام کے حق میں دو بڑے واقعات ہونے والے ہیں— ایک، کشمیر اور دوسرا، ترکی۔ کشمیر سے اسلام کے مذہب امن ہونے کا اعلان، اور ترکی سے اسلام کی عالمی اشاعت۔ آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کی عمومی امیج (image) یہ بن گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ یہ میڈیا کا پروپیگنڈہ نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کی غلط روش کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے۔ انھیں میں سے ایک کشمیر کے مسلمان ہیں۔ کشمیر کے مسلمان نادان لیڈروں کے فریب میں آگئے اور انھوں نے اسلام کے نام پر کشمیر میں تشدد کلچر چلا دیا۔ اب اگر کشمیر کے مسلمان کھلے طور پر اعلان کردیں کہ ہم کو گمراہ کیا گیا تھا۔ اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے اور ہم نے اپنی سابق روش کو چھوڑ کر پرامن اسلام پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، تو اُن کا یہ اعلان بلاشبہ اسلام کی امیج کو درست کردے گا اور اس کے بعد کشمیر میں اسلامی دعوت کے نئے راستے کھل جائیں گے۔ اس موضوع پر حال میں میری ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ اردو میں اس کا نام ’’صبحِ کشمیر‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کا نام یہ ہے:
Dawn over Kashmir
دوسرا مقام ترکی ہے۔ ترکی میں میرے اندازے کے مطابق، وہ حالات پوری طرح تیار ہیں، جب کہ ترکی اسلامی دعوت کا عالمی مرکز بنے۔ اس موضوع پر ان شاء اللہ، میری ایک مستقل کتاب چھپنے والی ہے۔ اس کا نام یہ ہوگا: Turkey Rediscovered جب میں حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر کے سامنے کھڑا تھا، اُس وقت مجھے یہ بتایا گیا کہ ترکی میں اور بھی بہت سے صحابہ کی قبریں ہیں۔ اُس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: لمثل هذا، فليعمل العاملون (61 :37)۔
میں نے کہا کہ خدایا، یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے عمل کے نتیجے میں جنت کا استحقاق حاصل کیا۔ میرے پاس تو کوئی عمل نہیں، پھر میرا کیا انجام ہوگا۔ اُس وقت مجھے قرآن کی ایک اور آیت یاد آئی۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: وفي أموالهم حق للسائل والمحروم (19 :51)۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues