Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
میں نے کہا کہ خدایا، تو نے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ حق داروں کے علاوہ، سائل کو بھی اُن کا حصہ دیں۔ تیرا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں عمل کرنے والے کو بھی ملے اور سائل کو بھی ملے۔ میں تیری رحمت سے امید کرتا ہوں کہ تو میرے ساتھ یہی سلوک کرے گا۔ میں اپنے عمل کی بنیاد پر جس چیز کا مستحق نہیں ہوں ، اس کو تو میرے سوال کی بنیاد پر مجھے دے دے گا۔
پھر میں نے کہا کہ قرآن کی مذکورہ آیت (لمثل هذا، فليعمل العاملون) میں غالباً یہ بات بھی شامل ہے کہ: لمثل هذا، فليسئل السائلون - جنت کا استحقاق صرف دو چیزوں سے ہوتا ہے، حقیقی عمل، یا حقیقی دعا ۔ اس کے سوا کوئی تیسری چیز آدمی کو جنت کا مستحق بنانے والی نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ پوری امت ایک غلطی میں مبتلا ہے۔ اور وہ جنت کا کم تر اندازہ کرنا۔ لوگ ایسی چیزوں کو جنت کی قیمت سمجھے ہوئے ہیں جن کا جنت کے حصول سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً صلوٰۃ التسبیح پڑھنے پر جنت، مسلم گھر میں پیدا ہونے پر جنت، کسی بزرگ کا دامن تھام لینے پر جنت، کسی درگاہ کے دروازہ جنت‘‘ سے گزر جانے پر جنت، کسی مقدس قبرستان میں دفن ہونے پر جنت۔ کلمہ گوئی پر جنت، مفروضہ دشمن کے خلاف لڑنے پر جنت، مسلمانوں کے قومی کلچر کو اختیار کر لینے پر جنت، وغیرہ ۔ اس ذہن کی ایک علامتی مثال ایک شاعر کا یہ شعر ہے:
نوک خامہ سے کھول لیں گے سہیل باب فردوس گر کھلا نہ ہوا یہ محض ایک تخیلاتی شعر ہے، حصول جنت کے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جنت کا دروازہ کسی انسان کے لیے اس کے نوک خامہ‘‘ سے نہیں کھلے گا، بلکہ وہ صرف اللہ کی رحمت سے کھلے گا۔ 3 مئی 2012 کی شام کا کھانا ہم لوگوں نے ہوٹل میں کھایا۔ کھانے کی میز پر ایک صاحب نے سوال کیا کہ عرب اسپرنگ (Arab Spring) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اصطلاح خود عربوں نے نہیں بنائی ہے، بلکہ امریکیوں نے بنائی ہے۔ عرب لوگ اس کو "نهضة إسلامية‘‘ کہتے ہیں، یعنی اسلامی بیداری (Islamic resurgence)۔ مگر میں دونوں ہی کو خوش فہمی سمجھتا ہوں۔ آج کل جو کچھ عرب ملکوں میں ہورہا ہے، وہ نہ عرب اسپرنگ ہے اور نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues