Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
اسلامک رسر جینٹس۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف رد عمل کی ایک سیاست ہے۔ اور منفی رد عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ عرب ملکوں کا موجودہ ہنگامہ صرف ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ (anti-establishment) ہنگامہ ہے، وہ ہر گز کوئی پرو اسلام (pro-Islam) تحریک نہیں۔ ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں عرب ملکوں میں اسلام کے نام پر مختلف سرگرمیاں جاری ہیں، ان سرگرمیوں کو ایک لفظ میں ’صحوة إسلامية‘ کہا جاتا ہے، یعنی اسلامی بیداری۔ مگر میرے اندازے کے مطابق، یہ صحوة إسلامية نہیں ہے، بلکہ وہ صحوة قومية ہے۔ ان سرگرمیوں کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں عام طور پر ایسا ہو گیا ہے کہ اسلام اور مسلمان کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنی قومی سرگرمیوں کو صرف قومی نام دیں، وہ ان کو اسلام کا نام نہ دیں۔ قومی سرگرمیوں کو اسلام کا نام دینے سے خدا کا دین بدنام ہوتا ہے اور خدا کے دین کو بدنام کرنا بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کا یہ قومی مزاج بہت قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ حافظ شیرازی چودھویں صدی عیسوی کے ایک ایرانی شاعر تھے۔ یہی شکایت انھوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کے بارے میں ان الفاظ میں کی تھی:
حافظا، مے خورورندی کن وخوش باش ولے دام تزویر مکن چون دگراں قرآن را 4 مئی 2012 کی صبح کو ہم لوگوں نے ہوٹل میں ناشتہ کیا۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ ساڑھے نو بجے فاتح کالج کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ بذریعہ کار 45 منٹ کا راستہ تھا۔ یہ کالج گولن تحریک کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ کالج استنبول کے ایک کھلے ہوئے ایریا میں واقع ہے۔ اس کا کیمپس کافی بڑا ہے۔ یہ کالج جدید طرز کی 6 منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ کالج کے تعارف نامے میں اس کی بابت یہ الفاظ درج تھے:
Fatih College — our school, which is the new campus of
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues