Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
مختلف مراحل پر بار بار چیکنگ ہوتی رہی۔ تاہم یہ سب جدید طرز کے آلات کے ذریعے بہت منظم انداز میں ہورہا تھا۔ ایک ترک ساتھی نے اس کو دیکھ کر کہا کہ ترکی میں امریکا سے زیادہ، لوگ امن کے بارے میں حساس واقع ہوئے ہیں۔
یہاں ہمارے ساتھیوں نے ائر پورٹ کے عملہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ہمارے ساتھ ترکی زبان میں چھپا ہوا ایک خوب صورت پمفلٹ تھا، وہ بھی یہاں لوگوں کو دیا گیا۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــ اکیسویں صدی میں ترکی کا رول Tükiye'nin Rolü 21) (ائر پورٹ پر افریقہ سے آئے ہوئے کچھ علما سے ملاقات ہوئی۔ یہ انڈیا کے رہنے والے تھے، مگر وہ افریقہ (زامبیا) میں مقیم ہیں۔ ہمارے ساتھی نے ان کو دعوتی پمفلٹ اور کتاب معرفت‘ دی۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ لیا۔ ان میں سے کئی لوگوں نے بتایا کہ وہ ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ائر پورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز میں داخل ہوئے۔ یہ ٹرکش ائرلائنز (2224-TK) کا نسبتاً ایک چھوٹا جہاز تھا۔ استانبول سے غازی عین تیپ کا فاصلہ تقریباً ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر (848.27) ہے۔ سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم لوگ غازی عین تیپ کے ائر پورٹ پر اتر گئے۔ یہ ایک چھوٹا اور خوب صورت ائر پورٹ تھا۔ فضا میں بادل تھے اور ائر پورٹ کے چاروں طرف دور دور تک پہاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
ائر پورٹ سے بذریعہ کار ہم لوگ شہر کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ راستہ تقریباً 45 منٹ میں طے ہوا۔ غازی عین تیپ میں ہمارا قیام یہاں کے مشہور ہوٹل توجان (Tugcan) میں تھا۔ لیکن پہلے ہم لوگ اوغور پلازا ہوٹل (Ugur Plaza) میں گئے۔ یہاں مغرب کی نماز کے بعد ڈنر (dinner) کا انتظام تھا۔ ڈنر کے بعد ہم لوگ توجان ہوٹل چلے گئے جہاں ہمارا قیام تھا۔ یہ ہوٹل بذریعہ کار یہاں سے 10 منٹ کے فاصلے پر تھا۔
یہ جدید طرز کا ایک ملٹی اسٹوری ہوٹل تھا۔ یہاں ہوٹل کے پانچویں فلور پر ہم کو ایک سویٹ (suite) میں ٹھہرایا گیا۔ ہمارے ساتھیوں کے قیام کے لیے اس ہوٹل کے فرسٹ فلور پر ڈبل بیڈ کا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues