Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
ایک دوسرا روم دیا گیا تھا۔ ہوٹل میں ہر قسم کی راحت کا سامان موجود تھا، لیکن مجھے اس قسم کے سامانورں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میں اپنے سادہ انداز میں ہوٹل میں رہا اور پھر واپس آگیا۔ 2012ء کو صبح کا ناشتہ اسی ہوٹل میں تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکانے ایک بڑے ہال میں میزوں کے گرد بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ یہ پورا ہال کھانے کے مختلف آئٹم سے بھرا ہوا تھا، مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق، ناشتے کے لیے صرف دو چیزیں لیں۔ شہد اور براؤن بریڈ۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ شہر کے اُس مقام پر گئے جہاں کانفرنس کی کارروائی کا انتظام تھا۔ یہ جدید طرز کا ایک انتہائی وسیع ہال تھا۔ یہاں رسیپشن کے پاس کئی بک اسٹال تھے۔ ہمارے ساتھی کئی کارٹن میں ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں لے گئے تھے۔ مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ اور عربی اور انگریزی کی دوسری کتابیں ۔ ان میں ترکی زبان میں چھپا ہوا ایک پمفلٹ تھا جو اسی موقع کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ تمام مطبوعات رسیپشن کاؤنٹر کے سامنے لگی ہوئی میزوں پر رکھ دی گئیں۔ کانفرنس کے شرکا اور مقامی لوگوں نے یہاں سے مفت کتابیں حاصل کیں۔ یہ کتابیں ہاٹ کیک کی طرح تھوڑی ہی دیر میں ختم ہوگئیں۔
2012ء کی صبح کو 11 بجے کانفرنس کا آغاز یہاں کے ایک اجتماعی سنٹر (Sehit Kamil Culture and Congress Centre) میں ہوا۔ سب سے پہلے ایک نوجوان ترک قاری نے قرآن کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ یہ تلاوت مصری لہجے میں تھی۔ انھوں نے تلاوت کے لیے سورہ احزاب کی آیات 21- 27 اور 36- 48 کا انتخاب کیا تھا۔ قرات کے بعد کانفرنس کے ناظم مسٹر کمال گولن (Kemal Gülen) نے کانفرنس کا اور اس کے پروگرام کا تعارف کرایا۔ ان کی تقریر تر کی زبان میں تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام مجلہ حراء کی طرف سے کیا گیا تھا۔ چناں چہ تعارفی تقریر کے بعد مجلہ حراء کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے کانفرنس کے مقاصد کی مزید وضاحت کی۔
اس کانفرنس میں مجھے افتتاحی تقریر (inaugural address) کا موقع دیا گیا۔ میں نے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues