Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
انگریزی میں 15 منٹ کی ایک تقریر کی۔ تقریر کا موضوع دعوت الی اللہ تھا۔ اُس وقت میں شدید کیفیت میں تھا۔ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں نے کیا کہا، لیکن سننے والوں کا بیان ہے کہ تقریر کے دوران میں خود بھی روتا رہا اور سامعین بھی روتے رہے۔
تقریر کے بعد کئی لوگوں کے تبصرے سامنے آئے۔ کانفرنس کے کو آرڈینیٹر (co-ordinator) مسٹر کمال گولن نے اپنی تقریر کے دوران میرے بارے میں کہا کہ۔ اسٹیج پر ان کی موجودگی اپنے آپ میں ایک خاموش خطاب تھا۔ اُن کو دیکھ کر مجھے حضرت ابو ایوب انصاری یاد آگئے، کیوں کہ وہ جب ترکی آئے تھے تو وہ بھی اسی طرح بوڑھے تھے، اُس وقت اُن کی عمر 80 سال ہو چکی تھی۔ اسی طرح حواء میگزین کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش نے گفتگو کے دوران مجھ سے کہا کہ کانفرنس کو آپ ہی نے شروع کیا اور وہ آپ ہی پر ختم ہوگئی۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس میں آپ کا خطاب سننے کے بعد ہم نے سوچا کہ کانفرنس کو ختم کرکے اب ہم لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں، کیوں کہ جو کچھ کہنا تھا وہ آپ نے کہہ دیا۔ اسی طرح ایک ترک اسکالر نے کہا کہ: You were the hero of this conference. کانفرنس کے خاتمے پر ابھی میں اسٹیج ہی پر تھا کہ لوگ ہجوم کرکے میرے پاس آگئے۔ کوئی آٹوگراف لے رہا تھا، کوئی میرے ساتھ تصویر کھنچوا رہا تھا، کوئی میری کتاب پر میرے دستخط لینا چاہتا تھا۔ یہ صورت حال دیر تک باقی رہی۔ ترکی کے ایجوکیشن منسٹر ڈاکٹر محمد گورماز بھی وہاں موجود تھے۔ وہ عربی بول رہے تھے۔
خطاب کے بعد وہ میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں حضرت ابو ایوب انصاری کا جو حوالہ دیا، اس نے مجھ کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ میری عربی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ ترکی کے لوگوں نے جس اعلیٰ اعتراف کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہہ ان کے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
میرے ساتھی نے یاد دلایا کہ میں نے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جب میں استنبول
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues