Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
میں حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر کے پاس کھڑا تھا تو وہاں مجھے ایک خاموش آواز سنائی دی۔ یہ آواز خاموش تھی، لیکن وہ بہت زیادہ واضح تھی ۔ وہ آواز یہ تھی کہ اے امتِ محمد، تم کہاں ہو ۔ ہم نے ما قبل کمیونیکیشن دور میں خدا کا پیغام یہاں تک پہنچایا تھا۔ اب تم اٹھو اور آگے بڑھ کر اس پیغام کو ما بعد کمیونیکیشن دور کی مدد سے پوری دنیا میں پہنچا دو۔ ہم نے قدیم دنیا کے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچایا تھا، تم جدید دنیا کے انسانوں تک خدا کا پیغام رحمت پہنچا دو۔
کانفرنس ہال سے ہم لوگ نکلے تو یہاں استنبول کے ٹی وی چینل الترکیہ (TRT) کی ٹیم موجود تھی۔ اس ٹیم کے نمائندہ مسٹر جمیل جو موش تھے۔ انھوں نے میرا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اُن کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں، اُن کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسائل (problem) زندگی کا حصہ ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے: Ignore the problems, avail the opportunities. مسٹر جمیل جو موش نے دوران گفتگو سوال کیا کہ کیا استاذ فتح اللہ گولن سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے کہا نہیں، البتہ میں نے ان کی بعض کتابیں دیکھی ہیں۔ میں ان کی قدر کرتا ہوں ۔ وہ ایک مخلص اور تعمیر پسند لیڈر ہیں۔
کانفرنس مجموعی طور پر دو دن تک جاری رہی، لیکن میں اور میرے ساتھی اس کے صرف پہلے سیشن (افتتاحی اجلاس) میں شریک رہے۔ کانفرنس ہال سے نکلنے کے بعد ہم لوگوں کو اوغور پلازا ہوٹل لے جایا گیا جہاں دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔
یہاں ہوٹل میں مختلف ملکوں کے کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک مسٹر احمد (Ahmet Alibasic) تھے۔ وہ بوسنیا سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ بہت پہلے سے میری کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے انگریزی زبان میں چھپی ہوئی ایک کتاب دی۔ یہ کتاب 615 صفحات پر مشتمل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues