Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
وہ کون سی عظمت ہے جس کو یہ لوگ واپس لانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک مادی آسودگی اور دینی سرگرمیوں کی بات ہے، وہ بلاشبہ مسلمانوں کو پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ حاصل ہے۔ حتیٰ کہ سیاست کے اعتبار سے بھی ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کی 58 حکومتیں ہیں۔ دعوت کے مواقع بھی پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ حاصل ہیں، پھر وہ کون سی عظمت ہے جس کے کھونے پر موجودہ زمانے کے مسلمان فریاد و ماتم میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور وہ نام نہاد پولیٹکل ایمپائر ہے۔ پچھلے پولیٹکل ایمپائر کے زمانے میں مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا، اُس سے بھی بہت زیادہ آج مسلمانوں کو حاصل ہے۔ پھر یہ فریاد و ماتم کس لیے۔ یہ صرف ابلیس کی تزئین ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو شکر کے جذبات سے محروم کر کے اُنھیں ناشکری کے جذبات میں مبتلا کر دے، تاکہ اُس کا وہ چیلنج پورا ہو جو اُس نے اِن الفاظ میں کیا تھا: ولا تجد أكثرهم شاكرين (7:17)۔
اس سلسلے میں ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اِس سے بالکل مختلف ہے جس میں آج کل کے تقریباً تمام مسلم مقررین اور محررین مبتلا ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر کے اعتبار سے، صحیح یہ ہے کہ تاریخ کو مواقع (opportunities) کے اعتبار سے دیکھا جائے، نہ کہ مسائل (problems) کے اعتبار سے۔ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا، یہی سنتِ رسول ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس اہم ترین سنتِ رسول کا شعور موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مفقود ہو گیا ہے۔
ترکی کے وزیرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد گورماز (Dr. Mehmet Görmez) بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہم لوگوں کے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح رہتے ہیں۔ لفٹ (lift) میں بھی وہ عام آدمی کی طرح آتے جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ کوئی سکیورٹی موجود نہیں۔ یہ سادگی ترکی کے سوا کسی بھی مسلم ملک میں موجود نہیں۔
یہ فرق کیوں ہے۔ اس فرق کا سبب وہی بدنام آپریشن ہے جس کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کمال اتاترک (وفات: 1938) کی امیج (image) علما کے درمیان یہ ہے کہ وہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues