Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
اسلام دشمن انسان تھا، مگر ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ کمال اتاترک نے فرسودہ مشرقی کلچر کے تحت پیدا شدہ جمود (stagnation) کو ختم کر کے اس کی جگہ وہ کلچر رائج کیا جو خود اس کی اپنی زبان میں’’ سائنٹفک کلچر‘‘ تھا۔ اسی سائنٹفک کلچر کا یہ نتیجہ ہے کہ ترکی واحد ملک ہے جہاں مغرب کی ترقی یافتہ قوموں کی وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے معترف خود ہمارے علما ہیں۔ مثلاً ڈسپلن، وقت کی پابندی، ورک کلچر، وغیرہ۔
ترکی کے اس سفر کے دوران ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ یہاں کمال اتاترک کی نہ کوئی تعریف کرنے والا ملا اور نہ تنقید کرنے والا۔ میں نے ایک تعلیم یافتہ ترک سے اتاترک کے بارے میں سوال کیا، مگر انھوں نے اس موضوع پر کچھ زیادہ گفتگو نہیں کی۔ اگر یہی موجودہ ترکوں کا مزاج ہے تو وہ نہایت درست مزاج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کو بھلانا اور ساری توجہ حال پر مرتکز کر دینا۔ یہ بلاشبہہ وہی مزاج ہے جس کو تعمیر پسندانہ مزاج کہا جاتا ہے۔ 6 مئی 2012 کی صبح کو غازی عین تیپ سے استنبول کے لیے روانگی تھی۔ چناں چہ ناشتے کے بعد ہم لوگ ائر پورٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہوٹل سے ائر پورٹ تک کا سفر 45 منٹ میں طے ہوا۔ راستے میں مختلف مقامات پر ہرے بھرے درختوں کی قطاریں دکھائی دیں۔ یہ انجیر اور زیتون اور پستہ (Pistachio) کے درخت تھے۔
علامہ بدر الدین العینی نویں صدی ہجری کے مشہور محدثین میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش 762 ہجری میں اسی شہر غازی عین تیپ میں ہوئی۔ بعد کو وہ قاہرہ (مصر) میں مقیم ہو گئے اور یہیں 855 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ غازی عین تیپ کی نسبت سے ان کو’’العینی‘‘ کہا جاتا ہے۔ علامہ العینی کی بہت سی کتابیں ہیں۔ ان میں سب سے مشہور کتاب بخاری کی شرح عمدة القاري في شرح البخاري ہے جو 11 جلدوں میں چھپ کر شائع ہو گئی ہے۔
غازی عین تیپ سے صبح کو ساڑھے آٹھ بجے ٹرکش ائر لائنز کی فلائٹ نمبر 2221 کے ذریعے استنبول کے لیے روانگی ہوئی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم لوگ استنبول کے ائر پورٹ پر پہنچ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues