Dawn over Kashmir
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
گئے ۔ ائر پورٹ سے روانہ ہو کر ہم لوگ سب سے پہلے انا طولو ایجنسی (Anadolu Ajansi) گئے۔ یہ ایک سرکاری نیوز ایجنسی ہے۔ اس کو 92 سال پہلے کمال اتاترک نے 1920 میں قائم کیا تھا۔ اس کی بلڈنگ بہت بڑی اور نہایت منظم تھی۔ اس کا ہر حصہ نہایت صاف ستھرا تھا۔ انڈیا میں ورلڈ اسٹینڈرڈ (world standard) کی بات بہت کی جاتی ہے، لیکن عملاً یہاں کوئی بھی چیز ورلڈ اسٹینڈرڈ کے مطابق نہیں، لیکن ترکی میں ہر چیز ورلڈ اسٹینڈرڈ کے مطابق نظر آئی۔ اناطولو ایجنسی میں ایک پوری ٹیم نے میرا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ وہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ انٹرویو مسٹر توران ترکی (Turan Kislakci) تھے۔ وہ اس ایجنسی کے عربی نیوز شعبہ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے جو سوالات کئے، اُن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ میری زندگی اور میرے مشن سے اچھی طرح واقف ہیں۔ انٹرویو کا موضوع اصلاً’’اسلام اور ماڈرن تہذیب‘‘ تھا، لیکن سوالات کے اعتبار سے یہ ایک جامع انٹرویو تھا۔ سوالات کے دوران جو موضوعات زیر بحث آئے، اُن میں سے کچھ یہ تھے اسلام اور عصر حاضر، سیکولرزم، ڈیموکریسی، عرب اسپرنگ، اسلامی حکومت، شیعہ سنی اختلافات، تقسیم ہند، اسلام میں عورت کا مقام، دور جدید میں دعوت الی اللہ کے امکانات، وغیرہ۔
ایک سوال اتاترک کے کمال ازم (Kemalism) کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ اتاترک کا کیس اسلام دشمنی کا کیس نہیں تھا۔ اتاترک کا آپریشن دراصل جمود اور فرسودہ مسلم کلچر کے خلاف تھا جو آخری زمانے میں خلافت عثمانی کے زوال کے نتیجے میں پیدا ہو گیا تھا۔ میں نے کہا: The case of Ataturk was not one of modernization of Islam, instead it was one of Islamization of Modernism. ترکی کے جدید ڈیولپ مینٹ میں مصطفی کمال اتاترک (وفات: 1938) کا ابتدائی رول ہے۔ کمال اتاترک فطری طور پر ایک جرأت مند اور با عزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلاً رومن رسم الخط کو ترکی کی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرز تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔ ان انقلابی تبدیلیوں کے پیچھے کمال
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues