Al-Risala · September 2012 · page

Dawn over Kashmir

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

اتاترک کا نظریہ کیا تھا ، وہ اصولی طور پر اُن کے اِس مشہور قول میں ملتا ہے سائنس انسانی زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد رہنما ہے:

Science is the most reliable guide in life (EB/2/257)

کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے ، اُن کو مخالفِ اسلام (anti-Islam) کہنا درست نہ ہوگا۔ زیادہ صحیح طور پر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation) مشن تھا۔ ترکی میں کمال اتاترک کی ریڈیکل کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً طویل جمود کا ٹوٹنا، لوگوں میں اوپن نیس (openness) کا آنا، جدید تعلیم کا فروغ، مغربی کلچر سے ڈائنا مزم (dynamism) کا آنا، مثبت سیکولر قدروں (positive secular values) کو فروغ، جدید وسائل کو رواج دینا، ترکی زبان کے لیے رومن رسم الخط اختیار کرنے کی بنا پر کمپیوٹر کی تیز رفتار ترقی کا ممکن ہو جانا، عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic thinking) کا رواج، علاحدگی پسندی (separatism) کا خاتمہ، ہر شعبے میں جدید کاری (modernization)، وغیرہ۔

مصطفیٰ کمال اتاترک کوئی مذہبی انسان نہیں تھے، وہ صرف ایک سیکولر انسان تھے۔ مگر ترکی میں جو انقلابی تبدیلیاں ان کے ذریعے وجود میں آئیں، وہ باعتبارِ نتیجہ ایسی تھیں جن سے اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھل گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ مسٹر توران نے میرے جوابات سے اتفاق کیا۔

انا طولو ایجنسی کے پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ توپ کاپی پیلیس میوزیَم دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ توپ کاپی پیلیس (Topkapi Palace) عثمانی خلفا کا محل تھا۔ اب اُس کو میوزیَم بنا دیا گیا ہے۔ یہ میوزیَم ایک بہت بڑے قلعے کی صورت میں ہے۔ اس کے بہت سے حصے ہیں۔ اس کو چند گھنٹوں میں دیکھا نہیں جاسکتا۔ ہم نے اس کے کچھ حصوں کو دیکھا۔ یہاں مسلم دورِ تاریخ کے نوادرات بہت کثرت سے موجود ہیں۔ یہ میوزیَم اپنے بیش قیمت تاریخی نوادرات کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page