Al-Risala · September 2012 · page

Dawn over Kashmir

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

گھر کی ایک خاتون نے سوال کیا کہ آپ قرآن کے ترجمے کو لوگوں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ (distribute) کرنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ کیا صرف قرآن ڈسٹری بیوٹ کرنے سے دعوت کا حق ادا ہو جائے گا۔

اس کے جواب میں میں نے کہا کہ ہاں، قرآن مکمل دعوت ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا مقصد کنورژن (conversion) نہیں ہے۔ دعوت کا مقصد انذار و تبشیر (19:97) ہے، یعنی خدائی ہدایت نامے کو لوگوں تک پہنچا دینا، اور قرآن پہنچانے کے بعد یہ کام بلاشبہ اصولی طور پر انجام پا جاتا ہے۔ داعی کا کام خدا کے پیغام کو پرامن انداز میں مدعو تک پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مدعو کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کے بارے میں کیا رسپانس دیتا ہے۔ مسٹر امین کا گھر بظاہر ایک ماڈرن گھر تھا، لیکن اُن کے مزاج میں سادگی اور دین داری تھی۔ ان کی بیوی اور ان کی والدہ دونوں حافظ قرآن تھیں۔ انھوں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھنے کی درخواست کی۔ چناں چہ ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے قرآن کی سورہ الم نشرح (94) کی تلاوت کی۔ اس کے بعد میں نے اس سورہ کی تشریح کی۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں عسر کے ساتھ یسر بھی لازماً موجود رہتا ہے۔ گھر کی ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ ڈفرنس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا طریقہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ڈفرنس کو فطرت کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ ڈفرنس کو لے کر شدید طور پر حساس ہونے کے بجائے، اس کے بارے میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جس کو اس مشہور مقولے میں بیان کیا گیا ہے: Take it easy - حقیقت یہ ہے کہ ڈفرنس کوئی مسئلہ نہیں، یہ لوگوں کی اپنی حساسیت ہے جس نے ڈفرنس کو غیر ضروری طور پر ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ مسٹر امین کے گھر سے اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ایئرپورٹ یہاں سے قریب تھا۔ ایئرپورٹ پر چیکنگ معمول کے مطابق تھی۔ مسٹر علی ایکیز بار بار منع کرنے کے باوجود ایئرپورٹ کے اندر آخری گیٹ تک ہمارے ساتھ رہے اور ہر مرحلے میں ہماری مدد کرتے رہے۔ آج کا پورا دن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page