Al-Risala · September 2012 · page

Book Reading: Not Appropriate As A Punishment

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

ہمارے لیے ایک ہیکٹک دن (hectic day) تھا، لیکن مسٹر علی آخر تک نہایت خوش دلی کے ساتھ غازی عین تیپ سے استانبول ائرپورٹ تک کے تمام مراحل میں ہمارا ساتھ دیتے رہے۔ جدید ترکی میں یہ مزاج ہم نے ہر جگہ دیکھا۔ ان لوگوں کے اندر وہ چیز عام طور پر پائی جاتی ہے جس کو ورک کلچر (work culture) کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ان لوگوں میں شرافت اور فراخ دلی اور سادگی جیسے اخلاقی اوصاف عام طور پر دیکھنے میں آئے۔ واپسی کے سفر میں جہاز کے اندر کچھ چیزیں مطالعے کے لئے موجود تھیں ۔ اُن میں سے ایک مشہور ترک اخبار زمن (Zaman) تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن ٹوڈیز زمن (Today's Zaman) کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ 6 مئی 2012 میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت تھا:

Book Reading: Not Appropriate As A Punishment

مضمون نگار کا نام یہ تھا— Erol Yilmaz۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کی عدالت نے پچھلے دس سال سے ایک نیا تجربہ شروع کیا ہے، وہ ہے چھوٹے جرائم (minor crimes) پر مطالعہ کتب کی سزا دینا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس قسم کے بعض جرائم مثلاً عورتوں پر تشدد، وغیرہ پر یہ سزا دینا کہ وہ ایک مدت تک صرف کتابوں کا مطالعہ کریں، یعنی قید خانے کے بجائے، وہ دار المطالعہ میں زندگی گزاریں:

So the punishment took place not in any sort of prison but rather in what is referred to in developed countries as "people's university", or the public library. (p. 4)

جہاز کے اندر رات کو حسب معمول نیند آگئی۔ فلائٹ نہایت ہموار (smooth) تھی۔ 7 گھنٹے کا راستہ سوتے ہوئے گزر گیا۔ 7 مئی 2012 کی صبح کو ساڑھے چار بجے ہم لوگ دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر پہنچ گئے۔

جب میں ائر پورٹ کے باہر اُس مقام پر پہنچا، جہاں مجھ کو نظام الدین جانے کے لئے کار پر بیٹھنا تھا، ہمارے ساتھ ائیرپورٹ کا ایک ہندو کارکن تھا جو ہماری وہیْل چیئر کو چلا رہا تھا۔ ہمارے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page