This is a spiritual gift for you.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
یہ معلوم ہو کہ مجرم کون ہے تو وہ اس کی چیکنگ کرنے کے بجائے اس کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی چیکنگ ہمیشہ عمومی اصول کی بنا پر ہوتی ہے، وہ شخصی علم کی بنا پر نہیں ہوتی۔ اس لیے اس طرح کے واقعے پر مشتمل ہونا درست نہیں۔
16 جون 2011 کو ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر آئے۔ یہاں دو صاحبان ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔ خواجہ کلیم الدین (ایم ایس سی)، اور ڈاکٹر وقار عالم ۔ دونوں صاحبان ہمارے دعوتی مشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر وقار عالم نیویارک میں رہتے ہیں۔ ائر پورٹ سے ہم لوگ دو گاڑیوں پر روانہ ہوئے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم لوگ ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پہنچے۔ یہ ایک پر فضا مقام تھا۔ یہاں ہم لوگوں نے ناشتہ کیا۔ اس کے بعد اہل خانہ اور اپنے ساتھیوں کی مختصر نشست میں کچھ باتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر وقار عالم کی اہلیہ کا نام نصرت فاطمہ ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو امریکا میں دوسروں کی طرح تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ اگر تسبیح فاطمہ کی اسپرٹ کو اپنے اندر شامل کر لیں تو آپ کا گھر فرشتوں سے بھرارہے گا۔ میں نے کہا کہ تسبیح فاطمہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ تسبیح فاطمہ کا مطلب ہے — فرشتوں کو اپنا مددگار بنانا۔
ڈاکٹر وقار عالم کی لڑکی سائکالوجی کا کورس کر رہی ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ امریکا میں اس کورس کے لئے جاب کے مواقع کیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت زیادہ ۔ اُن سے بات کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ امریکا میں نفسیاتی علاج کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب مادی دنیا سے مایوسی ہے۔ پہلے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ مادی ترقی ان کو سکون دے گی، لیکن مادی ترقی کے با وجود ان کو سکون نہیں ملا۔ اس صورت حال نے امریکا میں نفسیاتی علاج کی ضرورت بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ نیویارک میں مختصر قیام کے بعد ہمارا قافلہ فلیڈ یلفیا (Philadelphia) کے لیے روانہ ہوا۔ یہ پورا سفر اس طرح گزرا جیسے کہ ہم لوگ سر سبز وادی (green valley) کے درمیان سے گزر رہے ہوں ۔ یہ 6 لین کی نہایت عمدہ سڑک تھی ۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کی گھنی قطاریں تھیں ۔ ہوائی کثافت (air pollution) بہت کم تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues