Al-Risala · November 2012 · page

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

میرے لئے ترکی کی دریافت کے ہم معنی بن گیا۔ 5 مئی 2012 کو جب میں نے ترکی کے ایک شہر (Gaziantep) میں مذکورہ کانفرنس میں افتتاحی خطاب کیا تو شروع ہی میں میں نے کہا: It was my first visit to Turkey, but it proved to be a discovery visit. اس سفر سے پہلے میں ترکی کو دوسروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر جانتا تھا، مگر جب میں نے خود ترکی کا سفر کیا تو مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھوں اور براہِ راست طور پر اس کو جاننے کی کوشش کروں۔ اس کے نتیجے میں جو واقعہ پیش آیا، اس کو میں ایک لفظ میں اس طرح بیان کر سکتا ہوں کہ میں نے ترکی کو از سرِ نو دریافت کیا۔

میں نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ کمال اتاترک نے اقتدار پا کر ترکی میں مذہب کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً انھوں نے حکم دیا کہ عربی کے بجائے ترکی میں اذان دی جائے۔ انھوں نے ایک قانون کے ذریعے ترکوں کو پابند کیا کہ وہ قدیم ترکی ٹوپی کے بجائے مغربی طرز کے ہیٹ (hat) پہنیں۔ انھوں نے مسجدوں کو میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ انھوں نے قرآن پر پابندی لگادی، وغیرہ۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر پر عربی میں اذان کی آوازیں آرہی ہیں۔ مسجدوں میں لوگ اُسی طرح نمازیں پڑھ رہے ہیں جس طرح میں نے انڈیا میں اور دوسرے ملکوں میں دیکھا تھا۔ ہم نے اپنے اس سفر کے دوران کسی ترک کو ہیٹ پہنے ہوئے نہیں دیکھا۔ کانفرنس کا افتتاح ہوا تو وہاں ایک ترک قاری نے خالص عرب لہجے میں قرآن کی لمبی تلاوت کی۔ ان باتوں کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے مجھے یہ خیال آیا کہ شاید میں ترکی کے علاوہ کسی اور ملک میں پہنچ گیا ہوں، مگر بار بار کے تجربات نے آخر کار یہ یقین کرنے پر مجبور کر دیا کہ میں اُسی ملک میں ہوں جس کا نام ترکی ہے۔ یہ ایک عام مزاج ہے کہ لوگ ناموافق چیزوں کا مبالغے کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، وہ ایک استثنائی واقعے کو جنرلائز کر کے اس کو عمومی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا ہی ترکی میں ہوا۔ کمال اتاترک نے پُرجوش انداز میں مذہب کے خلاف کچھ باتیں کہیں اور اس کے مطابق

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page