الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
کچھ اقدامات بھی ے، لیکن ان اقدامات کا نتیجہ عملی اعتبار سے نہایت محدود تھا اور یہی ہو سکتا تھا۔ اس کی یک مثال روس میں قائم ہونے والا کمیونسٹ ایمپائر ہے۔ وہاں باقاعدہ ایک مخالف مذہب نظریے کے تحت یہ کوشش کی گئی کہ کمیونسٹ ایمپائر میں مذہب کا کلی خاتمہ کر دیا جائے ، لیکن 1991 میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو اچانک وہاں مذہب دوبارہ زندہ ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حکومت کی مخالفانہ کارروائیوں کے باوجود مذہب اگرچہ اوپری سطح سے بظاہر غائب ہو گیا تھا، لیکن انڈر گراؤنڈ سطح پر وہ اب بھی موجود تھا۔ یہی واقعہ ترکی میں ہوا۔ اتاترک کے زمانے میں حکومت کی کارروائی سے مذہب ظاہری سطح پر کسی درجے میں غیر موثر ہو گیا تھا، لیکن اتاترک کے بعد رفتہ رفتہ وہ پوری طرح زندہ ہو گیا۔ اب کمال ازم صرف کچھ کتابوں میں پایا جاتا ہے، خود ترکی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ اصل یہ ہے کہ واقعات کی رپورٹنگ میں انسان کا مزاج ہمیشہ ایک طرفہ رپورٹنگ کا رہا ہے۔ لوگوں کی یہ قدیم عادت ہے کہ اگر کوئی اچھی بات ہو تو وہ اس کی رپورٹنگ نہیں کریں گے، لیکن اگر کوئی بظاہر بری بات ہو تو وہ اس کو فوراً رپورٹ کریں گے اور ہر جگہ مزید اضافے کے ساتھ اس کا چرچا ہونے لگے گا۔ یہی ترکی کے ساتھ ہوا۔ ترکی، کمال اتاترک کی روش سے زیادہ، لوگوں کے اس غلط مزاج کا شکار ہوا ہے۔ جدید ترکی جس بدنامی کا شکار ہوا ہے، وہ زیادہ تر لوگوں کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں، خود اتاترک کے فعل کا نتیجہ۔
مثال کے طور پر خلافت کے زمانے میں ترکی کی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ اتاترک نے ایک قانون بنا کر ترکی زبان کے لئے رومن رسم الخط کو لازمی قرار دے دیا۔ یہ بات جس طرح بھیانک انداز میں رپورٹ کی گئی، حقیقت میں وہ اتنی بھیانک نہ تھی۔ اصل یہ ہے کہ ترکی زبان قدیم زمانے میں ایک آرمینین رسم الخط (Armenian Script) میں لکھی جاتی تھی، جس کا نام یہ تھا۔ Orkon۔ نویں صدی عیسوی تک یہی آرمینین رسم الخط ترکی میں رائج رہا۔ اس کے بعد اسلام کے فروغ اور عربوں کے اختلاط کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ترکی میں عربی رسم الخط رائج ہو گیا۔ اس کے بعد جب ترکی میں اسلام پھیلا اور عربوں کو غلبہ حاصل ہوا تو دھیرے دھیرے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues