الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
انٹریکشن کے نتیجے میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکی کی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے ربع اول میں اتا ترک نے ترکی زبان کے رومن رسم الخط میں لکھے جانے کا حکم جاری کیا۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا دوسرا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بھی اتفاقاً نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ جس طرح اس سے پہلے عربوں کے اختلاط سے ترکی زبان میں عربی رسم الخط کا رواج ہوا تھا، اسی طرح بعد کے زمانے میں یورپ کے اختلاط سے وہ ماحول پیدا ہوا جس کے زیر اثر اتا ترک نے ترکی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کر دیا۔ اس پس منظر میں رسم الخط کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ سنگین نظر نہیں آئے گا۔
اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کے رسم الخط کو بدلنا وقت کا ایک تقاضا بن چکا تھا۔ ترکی جزئی طور پر یورپ کا ایک حصہ ہے۔ یورپ کی تمام زبانیں رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری تھا کہ ترکی زبان بھی اپنے پڑوسی ملکوں کے رسم الخط میں لکھی جائے۔ بیسویں صدی کے ربع اول میں جب ترکی زبان کا رسم الخط بدلا گیا تو بظاہر وہ ایک ریڈیکل واقعہ نظر آتا تھا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ ایک دور اندیشی کا فیصلہ تھا۔ جلد ہی بعد دنیا میں کمپیوٹر کا دور آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر کی اصل زبان انگریزی ہے جس کا رسم الخط رومن ہوتا ہے۔ ترکی زبان اپنے رومن رسم الخط کی بنا پر بہت جلد کمپیوٹر کے دور میں داخل ہو گئی۔ وہاں بہت جلد ہر قسم کے علمی اور تعلیمی شعبوں کا کمپیوٹرائزیشن (computerization) ہو گیا، جب کہ آج بھی مسلم ممالک کی دوسری زبانیں جیسے اردو، عربی اور فارسی، اس معاملے میں، ترکی زبان سے بہت پیچھے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی زبان میں ایک روزنامہ نکلتا ہے جس کا نام زمن (Zaman) ہے، یہ اخبار روزانہ ایک ملین کی تعداد میں چھپتا ہے۔ اس کا صحافتی درجہ یورپ کے کسی بھی معیاری اخبار کے برابر ہے۔ اس قسم کا معیاری اخبار کسی مسلم ملک میں آج بھی نہیں پایا جاتا۔ اسی مثال پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ ایک علامتی مثال اہل عرب اور شام (Syria) کے درمیان تعلقات قدیم زمانے سے قائم تھے۔ شام کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues