Al-Risala · November 2012 · page

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنا بہت آسان تھا۔ یہ فاصلہ 500 میل سے بھی کم تھا۔ چناں چہ اصحابِ رسول کی جماعت ساتویں صدی عیسوی میں شام کے علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنے لگی۔ اس آمد و رفت کے دوران ترکی میں اسلام پھیلنے لگا، یہاں تک کہ ترکی کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ لیکن قانونِ فطرت کے مطابق، بعد کو زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ترکی کے مسلمانوں کا یہ زوال آخری حد تک پہنچ گیا۔ اس دور میں ترکی کے علما کا کیا حال تھا، اُس کا اندازہ ایک علامتی مثال سے ہوتا ہے۔

خلیفہ عبد الحمید ثانی کا زمانہ حکومت 1876 سے 1909 تک ہے۔ اس نے ترکی میں ریفارم لانے کی کوشش کی۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کا نفاذ کیا۔ تاہم روایتی ذہن کی بنا پر ملک میں اس کی شدید مخالفت ہوئی اور اس کو تخت سے معزول کر دیا گیا۔

قدیم زمانے میں ترکی اپنے بحری بیڑے کے لیے مشہور تھا، مگر اٹھارھویں صدی میں جب یورپ میں بھاپ (steam) کی طاقت دریافت ہوگئی اور بحری جہازوں کو اسٹیم انجن کے ذریعہ چلانے کا دور آیا تو ترکی اس میدان میں بہت پیچھے ہوگیا۔ اُس وقت وہاں کے مذہبی طبقے کا فکری زوال اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ نئے طرز کی دخانی کشتیوں کو حاصل کرنا اور ان کو استعمال کرنا بھی اُن کو ایک غیر مذہبی فعل نظر آنے لگا۔

سلطان عبد الحمید ثانی (وفات: 1918) پہلا شخص تھا جس نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (أسطول) تیار کرایا۔ کہا جاتا ہے کہ جب دُخانی کشتیاں تیار ہو گئیں تو اس کے بعد وقت کے ترک علما نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اُس پر ختمِ بخاری کی رسم ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کشتیوں کو سمندر میں داخل کرنا ان کے نزدیک خطر ناک تھا۔ علما کا اصرار جب بڑھا تو اُس وقت کے ایک دانش ور جمیل صدقی الزھاوی (وفات: 1936) نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں بحری بیڑا بخار (بھاپ) سے چلتا ہے، نہ کہ بخاری سے: إِن الأساطيل في هذا العصر تسیر بالبخار، لا بالبخاري۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page