Al-Risala · November 2012 · page

ترکی کا پلس پوائنٹ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

سائنسی ترقی کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم دور میں اقتصادیات کی بنیاد زراعت پر ہوتی تھی۔ جدید دور میں اقتصادیات کی بنیاد صنعت پر قائم ہوگئی ہے۔ جدید ترکی نے اس راز کو سمجھا اور صنعت کے تمام شعبوں میں ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ عرب ممالک کی بظاہر خوش حالی تمام تر قدرتی تیل کی بنیاد پر قائم ہے۔ ترکی بھی ایک خوش حال ملک ہے، لیکن اس کی خوش حالی کا انحصار برعکس طور پر صنعتی سرگرمیوں پر قائم ہے، نہ کہ تیل کے قدرتی وسائل پر، کیوں کہ تیل جیسی چیز وہاں موجود ہی نہیں۔ اس قسم کی ترقی بلاشبہ سائنس اور جدید تعلیم کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔

ترکی کا پلس پوائنٹ

ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کو 18 سال (1938-1920) تک سیاسی اقتدار حاصل رہا۔ اس مدت میں انھوں نے جو ریڈیکل کام کئے، اس کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کمال ازم کا اگر موضوعی مطالعہ (objective study) کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی بلڈوزر (divine bulldozer) کی حیثیت رکھتا تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے زوال یافتہ بوسیدہ کلچر کو ڈھا دیا، تاکہ اس کی جگہ ایک نئی عمارت کی تعمیر کی جاسکے۔ کمال ازم کا یہ معاملہ ترکی کے مشہور صوفی شاعر جلال الدین رومی کے اس شعر کا مصداق تھا کہ جب کسی عمارت کو آباد کرنا ہوتا ہے تو پہلے پرانی عمارت کو ڈھا دیتے ہیں: چوں بنائے کہنہ آباداں کنند او لأ تعمیر را ویراں کنند اسلام کا اصل ماڈل وہ ہے جو دعوت الی اللہ کے تصور پر قائم ہوتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں یہی اسلام کا ماڈل تھا، مگر بعد کورفتہ رفتہ اُس پر زوال آیا اور دعوتی ماڈل کے بجائے دو متوازی (parallel) ماڈل قائم ہوگئے— پولیٹکل ماڈل، اور فقہی ماڈل۔ پولیٹکل ماڈل کا یہ نتیجہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے لیے دعوت کا موضوع نہ رہیں، بلکہ وہ سیاست اور حکومت کا موضوع بن گئیں۔ اسی طرح فقہی ماڈل کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام، اسپرٹ کے معنی میں تعلق باللہ کا موضوع نہ رہا،

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page