Al-Risala · November 2012 · page

ترکی کا رول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ریڈیکل اصلاحات کیں۔ خاص طور پر تعلیم اور انڈسٹری میں ترکی کو یورپ کی ترقیاتی سطح پر لانے کی کوشش کی۔ اتاترک سے پہلے ترکی میں تعلیم کی شرح بمشکل 20 فی صد تھی، مگر کمال آپریشن کے نتیجے میں ترکی میں تعلیم اتنی تیزی سے بڑھی کہ جلد ہی وہ 90 فی صد تک پہنچ گئی: The literacy rate did increase greatly after the ترکی کے ایک مورخ نے لکھا ہے کہ کمال انتظامیہ نے ترکی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ اس نے ترکی میں سیکولرازم کو فروغ دیا اور حکومتی نظام کو ماڈرنائز کیا۔ تعلیم کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انڈسٹری اور بینکنگ کے نظام کو بہت زیادہ وسعت دی گئی: Kemalist administration brought about a thorough کمال اتاترک کے انھیں اقدامات کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ترکی، جدید اصلاح کے مطابق، ایک ترقی یافتہ ملک (developed country) بن گیا ہے۔ وہ یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ ترکی کے ادارے (institutions)، ترکی کی انڈسٹری، ترکی کے شہر، ترقی کے اعتبار سے یورپ کے ملکوں سے پیچھے نہیں ہیں، حتیٰ کہ جو ورک کلچر (work culture) یورپ میں پایا جاتا ہے، وہی ورک کلچر ترکی میں بھی موجود ہے۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ کمال اتاترک نے اپنے 18 سالہ دور اقتدار میں کئی غلطیاں کیں، مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر مصلح غلطیاں کرتا ہے، اس میں کسی مصلح کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ دیکھنے کی اصل چیز بعد کا نتیجہ ہے، نہ کہ آپریشن کے زمانے کی بعض غلطیاں۔ آج ترکی کو ترقی کے اعتبار سے جو درجہ حاصل ہے، وہ بلاشبہ کمال اتاترک کی ریڈیکل اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس اعتبار سے، ترکی دوسرے مسلم ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ دوسرے مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page