Al-Risala · November 2012 · page

From the Earliest Times to the Present

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

اس اعتبار سے، تر میں بھی وہی حالات پیش آئے جو دوسرے مسلم ملکوں میں پیش آئے۔ البتہ ایک اعتبار سے فرق ہے، وہ یہ کہ ترکی جغرافی اعتبار سے، یورپ کی سرحد پر واقع ہے، بلکہ جزئی طور پر وہ براعظم یورپ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوا کہ نشاۃ ثانیہ (Renainssance) کے بعد یورپ میں جو نئے حالات پیدا ہوئے، اُن کا براہِ راست اثر ترکی پر پڑا۔ وہ واقعہ جس کو ”ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش“ کہا جاتا ہے، وہ دراصل اس علاقے میں پیش آنے والے تہذیبی انقلاب کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی اتفاق یا کسی ”سازش“ کا نتیجہ۔ ترکی کی مخصوص جغرافی پوزیشن کے نتیجے میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ ترکی میں وہ پراسس شروع ہوا جس کو ویسٹرنائزیشن (westernization) یا سیکولرائزیشن(secularization) کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے علم بردار بہت سے نئے ترکی مفکرین تھے۔ مثلاً محمد نامق کمال (1840-1888) اور محمد ضیا گوکلپ (1924-1875)، وغیرہ۔ مشہور تنظیم ینگ ترک (Young Turk) بھی اسی کا ایک حصہ تھی۔

ترکی کا سلطان سلیم اول (وفات: 1520ء) سیاسی دائرے میں اس تحریک کا حامی تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ترکی کی تجدید کاری(modernization) کی جائے۔ خاص طور پر حکومتی ادارے کو ماڈرنائز کرنا۔ اس سلسلے میں سلطان نے ترکی کی فوج کو مغربی آلاتِ حرب سے مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت ترکی کے حالات اس قسم کی تجدید کاری کے لیے موافق نہ تھے۔ چناں چہ مصلحین کی کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں اور خود سلطان سلیم کو تخت چھوڑ دینا پڑا۔ جیسا کہ معلوم ہے، ترکی میں اسلام عہدِ صحابہ میں پہنچ چکا تھا۔ ترکی اس سے پہلے رومی سلطنت کے قبضے میں تھا۔ مسلمانوں نے جب رومی سلطنت کو توڑا تو اس کے بعد ترکی کی مسلم مملکت کا ایک حصہ بن گیا۔ رومی سلطنت کے زمانے میں ترکی کی آبادی زیادہ تر مسیحی مذہب کو ماننے والی تھی۔ نئے حالات کے تحت یہاں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ عربی زبان وسیع پیمانے پر رائج ہوگئی۔ ترکی کے شہروں میں کثیر تعداد میں عربی مدرسے قائم ہوئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page