From the Earliest Times to the Present
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
ترکی کے یہ عربی مدرسے آخر تک روایتی انداز پر قائم رہے۔ ان مدرسوں کا ماحول مکمل طور پر قدامت پرستی کا ماحول تھا۔ ان مدرسوں سے بڑی تعداد میں علما پیدا ہوئے ۔ دھیرے دھیرے ترکی میں علما کو نہایت مضبوط حیثیت حاصل ہوگئی، یہاں تک کہ نئے خلیفہ کی خلافت اُس وقت مکمل ہوتی تھی جب کہ وہ جامع ایوب ( مقبرہ ابوایوب انصاری) میں حاضر ہو اور وہاں شیخ الاسلام ( مفتی اعظم قسطنطنیہ ) اس کی کمر میں روایتی تلوار اپنے ہاتھ سے حمائل کریں، یہ رسم نئے خلیفہ کی تاج پوشی کا ایک لازمی حصہ تھی۔
ان تاریخی اسباب کے نتیجے میں ترکی کے علما کو ترکی میں نہایت طاقت ور پوزیشن حاصل ہوگئی۔ ترکی کے یہ علما دوسرے ملکوں کی طرح، اپنے محدود ماحول میں رہتے تھے، ان کو خارجی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کی مطلق خبر نہ تھی۔ وہ اپنے اس قدامت پرستانہ مزاج کی بنا پر ترکی میں تجدید کاری کی تحریک کے شدید مخالف بن گئے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ’’مغرب میں پندرھویں صدی عیسوی میں متحرک ٹائپ کی ایجاد سے پرنٹنگ پریس کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب آ گیا تھا، لیکن علما نے اس نئی ٹکنالوجی کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ عربی یا ترکی کی کتابوں میں خدا اور رسول کا نام ہوتا ہے جس کو اس جدید طریقہ طباعت میں پامال نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘۔ اسی طرح ’’ 1577 عیسوی میں استنبول میں ایک عظیم الشان رصد گاہ قائم کی گئی تھی جس کو علما نے خلافِ اسلام قرار دے دیا۔ اتفاق سے اُنھیں دنوں وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی۔ علما کا موقف تھا کہ یہ دراصل اسرارِ خدائی میں مداخلت کی سزا ہے۔ بالآخر 1580 عیسوی میں عوامی دباؤ کے سبب اس رصد گاہ کو منہدم کر دیا گیا‘‘، وغیرہ۔
( ادراکِ زوال امت، از: راشد شاز، جلد 2، صفحہ 177)
روایتی علما کی شدید مخالفت کی بنا پر ترکی میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ایک طرف تجدیدی مصلحین کی آواز دب گئی، اور دوسری طرف شدید دباؤ کے تحت سلطان سلیم اول کو 8 سال حکومت کرنے کے بعد 1520 عیسوی میں تخت خلافت چھوڑنا پڑا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues