ریڈیکل تبدیلی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
ریڈیکل تبدیلی
دورِ جدید کے حالات نے اس کو لازمی قرار دے دیا تھا کہ ترکی میں تجدید کاری (modernization) کا عمل کیا جائے۔ یہ کوشش ترک مصلحین کے ذریعے شروع ہوئی۔ ابتداء یہ تحریک تدریجی تبدیلی (gradual change) کے اصول پر چل رہی تھی، لیکن انیسویں صدی کے آخر میں یہ بات واضح ہو گئی کہ تبدیلی کا یہ کام تدریج کے اصول پر عملًا ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد تاریخ کی فطری رفتار کے مطابق، سوچنے والے دماغوں میں ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا ذہن پیدا ہوا۔ یہی ریڈیکل تبدیلی کا ذہن ہے جس نے بالآخر کمال اتاترک (1938-1881) کی صورت اختیار کر لی۔ ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا مزاج تدریجی تبدیلی (gradual change)
سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ تدریجی تبدیلی ہمیشہ اعتدال کے اصول پر چلتی ہے، مگر ریڈیکل تبدیلی میں ہمیشہ انتہا پسندی (extremism) کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ یہی جدید ترکی میں پیش آیا۔ جس کام کو پچھلے مصلحین اعتدال کے ساتھ کرنے میں ناکام ہو گئے، اُس کو کمال اتاترک نے انتہا پسندانہ انداز میں کر ڈالا۔ بعض خرابیاں جو کمال ازم کے اندر پائی جاتی ہیں، وہ اسی انتہا پسندی کا نتیجہ ہیں۔ تاہم یہ ترکی کی خوش قسمتی تھی کہ کمالی ریڈیکل ازم بہت دیر تک نہ چل سکا۔ بہت جلد ترکی میں ایسے مصلحین پیدا ہوئے جنھوں نے کمال ازم کی تصحیح کی، جنھوں نے ترکی کے انقلاب کو کامیابی کے ساتھ اعتدال کی طرف لوٹایا۔ ان ترک مصلحین میں سے دو خاص مصلحین یہ ہیں—بدیع الزماں سعید نورسی (1876-1960)، اور استاد محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)۔
کمال اتاترک نے اپنے انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر سیکولر شعبہ اور مذہبی شعبہ کے درمیان فرق نہیں کیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ سیکولر شعبوں میں ضروری اصلاحات لانے کے ساتھ مذہبی شعبوں کے اوپر بھی بلڈوزر چلا دیا، جو بلاشبہ غیر ضروری تھا۔ لیکن جہاں تک مذہبی شعبوں کا تعلق تھا، وہاں دوسرا کام کرنا تھا، وہ تھا—مذہب کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا۔ بعد کے معتدل مصلحین نے اس انتہا پسندی کو درست کیا۔ انھوں نے سیکولر شعبوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues