Al-Risala · November 2012 · page

ریڈیکل تبدیلی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ماڈرنائزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے مذہبی شعبوں کو دوبارہ ان کی اصل کی طرف لوٹایا۔ اِسی مصلحانہ عمل کا نتیجہ ہے کہ آج ترکی میں مذہب اپنی اصل صورت میں بدستور قائم ہو گیا ہے۔ وہاں کی مسجدوں سے پہلے کی طرح عربی میں اذانیں بلند ہو رہی ہیں، نماز کا نظام پہلے کی طرح اپنی اصل صورت میں قائم ہو گیا ہے، تمام مذہبی شعبے آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہے ہیں، وغیرہ۔ جدید تر کی میں کمال ازم کا دور دورہ نہیں ہے، بلکہ وہاں ایک اور چیز کا دور دورہ ہے جس کو نیو کمال ازم (Neo-Kemalism) یا اصلاح یافتہ کمال ازم کہا جا سکتا ہے۔

دعوہ ایمپائر (Dawah Empire)

ترکی اپنی انفرادی خصوصیات کی بنا پر مسلم دنیا میں ایک مختلف ملک (country with a difference) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا اظہار ہر دور میں اس کے امتیازی رول سے ہوتا ہے۔

انیسویں صدی کے آخر تک ترکی پولیٹیکل ایمپائر کا رول ادا کرتا رہا۔ بیسویں صدی میں ترکی کے رہنماؤں نے کامیاب طور پر عالمی سطح پر ایک ایجوکیشن ایمپائر (Educational Empire) قائم کیا۔ اکیسویں صدی میں ترکی کے لیے مقدر ہے کہ وہ ایک عظیم تر رول ادا کرے۔ وہ ہے دور جدید میں اسلام کا ایک دعوہ ایمپائر قائم کرنا۔ دعوہ ایمپائر وقت کی سب سے بڑی اسلامی ضرورت ہے۔ تقریباً 60 مسلم ملکوں میں ترکی واحد ملک ہے جو اپنے حالات کے اعتبار سے دعوہ ایمپائر قائم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

ترکی کے ایک سفر (مئی 2012) میں میں نے وہاں کا مشہور میوزیم (توپ کاپی پیلس) دیکھا۔ اس میوزیم میں قرآن کا ایک قدیم نسخہ رکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن کا وہ نسخہ ہے جو قبل از طباعت دور (pre-printing age) میں ایک صحابی رسول کے قلم سے لکھا گیا تھا۔ جب میں میوزیم کے اُس حصے میں پہنچا جہاں یہ قرآن رکھا ہوا ہے تو میری عجیب حالت ہوئی۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: نزّل الفرقان على عبده ليكون

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page