Al-Risala · November 2012 · page

ریڈیکل تبدیلی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

للعالمین نذیرا (25:1)۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قرآن اپنی خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ— اے امت مسلمہ، مجھ کو خدا نے دنیا کے تمام انسانوں کے لئے بھیجا تھا اور تم نے مجھ کو میوزیم میں رکھ کر چھوڑ دیا۔ قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: یا أیہا الإنسان، یا أیہا الناس، یا بني آدم۔ گویا کہ قرآن خداوند عالم کا ایک مکتوب یا ایک پیغام (message) ہے۔ اُس کو اس لئے بھیجا گیا ہے، تاکہ وہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں تک پہنچ جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے نزول پر 14 سو سال سے زیادہ وقت گزر گیا، مگر ابھی تک قرآن کا خدائی مکتوب اس کے مکتوب الیہ (addressee) تک نہیں پہنچا۔ انسانی تاریخ کا یہ واحد مکتوب ہے جو ابھی تک اُن ڈیلیورڈ (undelivered) پڑا ہوا ہے۔

اکیسویں صدی کی مردم شماری بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں 7 بلین سے زیادہ انسان آباد ہیں۔ گویا کہ امت محمدی کو خدا کا یہ پیغام 7 بلین انسانوں تک پہنچانا ہے۔ یہ وہ سب سے بڑا کام ہے جو امت محمدی کو انجام دینا ہے۔ امت محمدی اگر اس کام کو انجام نہیں دیتی تو وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن جائے گی: یا أيہا الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك، وإن لم تفعل فما بلغت رسالته (5:67)۔ اس آیت کے مطابق ، تبلیغ ما انزل اللہ کا کام نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کی پیغمبری مشتبہ ہوسکتی تھی۔

ختم نبوت کے بعد امت اب مقام نبوت پر ہے۔ ایسی حالت میں امت اگر تبلیغ ما انزل اللہ کا کام نہ کرے تو سخت اندیشہ ہے کہ اس کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہو جائے۔ نیا دور، نئے امکانات دنیا کی سیاسی تاریخ کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ قبل نیشن اسٹیٹ دور (pre-nation state age) اور بعد نیشن اسٹیٹ دور (post-nation state age)۔ پچھلے سیاسی دور میں یہ ممکن ہوتا تھا کہ ایک قوم بزور طاقت مختلف ملکوں پر قبضہ کرکے اپنا ایک ایمپائر بنالے۔ بازنتین ایمپائر، رومن ایمپائر، آٹمان ایمپائر (Ottoman Empire)، سوویت ایمپائر اور

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page