ریڈیکل تبدیلی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
برٹش ایمپائرا س کی مثالیں ہیں۔
مگر اب دنیا پوسٹ نیشن اسٹیٹ کے دور میں ہے۔ اب یہ آخری حد تک ناممکن ہو چکا ہے کہ کوئی قوم قدیم طرز کا ایمپائر بنا سکے۔ آج اگر کوئی قوم قدیم طرز کا ایمپائر بنانا چاہے تو وہ ایک قسم کا خلاف زمانہ عمل (anachronism) ہوگا جو عملاً کبھی وقوع میں آنے والا نہیں۔ مگر فطرت کا ایک اصول یہ ہے کہ ہر شام کے بعد ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے، یعنی ایک امکان کے خاتمے کے بعد ایک اور زیادہ بہتر امکان کا وجود میں آنا۔ زیر بحث معاملے میں بھی ایسا ہی پیش آیا ہے۔ اکیسویں صدی میں سیاسی اعتبار سے اپنا ایمپائر بنانا بلا شبہ ایک ناممکن نشانہ بن چکا ہے۔ مگر قانونِ فطرت کے مطابق، دوسرا زیادہ بہتر امکان عین اِسی صدی میں پیدا ہو گیا ہے۔ یہ دوسرا امکان جدید کمیونی کیشن (modern communication) کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ جدید کمیونی کیشن نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دنیا میں پولیٹکل ایمپائر کی جگہ الیکٹرانک ایمپائر بنایا جا سکے۔ یہ الیکٹرانک ایمپائر بلاشبہ قدیم ایمپائر سے ہزاروں گنا زیادہ بڑا ہے، رقبہ کے اعتبار سے بھی اور حصول مقصد کے اعتبار سے بھی۔
دورِ جدید کا الیکٹرانک ایمپائر اُس قوم کے لئے مقدر ہے جس کے پاس انسان کے لیے کوئی نظریہ حیات یا آئیڈیالوجی (ideology) ہو۔ اسلام بلاشبہ اس قسم کی ایک ابدی آئیڈیالوجی ہے۔ وہ قرآن پر مبنی ہے جو کہ واحد محفوظ الہامی کتاب ہے۔ امت مسلمہ کو عموماً اور اہلِ ترکی کو خصوصاً یہ موقع حاصل ہے کہ وہ اسلام کی مبنی بر قرآن آئیڈیالوجی کو لے کر اٹھیں اور اکیسویں صدی میں اپنا ایک الیکٹرانک ایمپائر بنا دیں۔
پچھلے دور میں پولٹیکل ایمپائر بالادستی حاصل کرنے کے لئے ہوتا تھا، لیکن نیا الیکٹرانک ایمپائر خدائی بلیسنگ کو عام کرنے کے لئے ہوگا۔ قدیم پولٹیکل ایمپائر ٹیکننگ اسپرٹ کا حامل ہوتا تھا، موجودہ الیکٹرانک ایمپائر گونگ اسپرٹ (giving spirit) کا حامل ہوگا۔
قرآن واحد صحیفہ ہے جو انسان کو وہ چیز دیتا ہے جس کی اُس کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues