Al-Risala · November 2012 · page

ترکی کی اسلامی تاریخ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ہے انسان کے لیے اس کے خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan)۔ تخلیقی منصوبے کو جانے بغیر کوئی شخص یا قوم اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ اور انسان کے بارے میں اس تخلیقی منصوبے کو جاننے کے لیے آسمان کے نیچے ایک ہی محفوظ اور مستند کتاب ہے اور وہ بلاشبہ قرآن ہے۔ استنبول کے میوزیم میں دورِ عثمانی کا قرآن گویا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قبل از طباعت دور میں قرآن دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا تھا- اب بعد از طباعت دور میں قرآن مزید اضافے کے ساتھ، دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

ترکی کی اسلامی تاریخ

اسلام سے پہلے ترکی کے باشندوں کی اکثریت مسیحی مذہب (Christianity) کو ماننے والی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں یہاں اسلام داخل ہوا۔ اس کے بعد یہاں مسلسل اسلام کا فروغ ہوتا رہا۔ اس وقت ترکی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 99 فی صد ہے۔ ترکی میں اسلام اور مسلمانوں کا استحکام بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم ہو گئی۔ اس کو عثمانی خلافت (Ottoman Empire) کہا جاتا ہے۔ یہ سلطنت 1299ء میں قائم ہوئی اور 1924ء تک باقی رہی۔ عثمانی سلطنت کے عروج کے زمانے میں اس میں ایشیا اور یورپ کے 12 ملک شامل تھے۔ استنبول کو عثمانی حکمراں سلطان محمد الفاتح (وفات: 1481ء) نے 1453ء میں فتح کیا۔ اُس وقت اس کا نام قسطنطنیہ تھا۔ بعد کو وہ استنبول کے نام سے عثمانی سلطنت کی راجدھانی بن گیا۔

قدیم زمانہ مبنی بر شمشیر سیاست کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کسی مشن کو مضبوطی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے مستحکم سیاسی بنیاد (political base) درکار ہوتی تھی۔ عثمانی سلطنت نے اسلامی مشن کو یہی مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کی۔ اس قسم کی مضبوط سیاسی بنیاد کے بغیر قدیم زمانے میں اسلام کو فروغ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ عثمانی ترکوں نے ایک مدت تک، نہ صرف ترکی، بلکہ مسلم دنیا کے بڑے حصے کو سیاسی دبدبہ کی یہی بنیاد فراہم کی۔ اس اعتبار سے عثمانی سلطنت کا کارنامہ ناقابل انکار ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page