ترکی کی اسلامی تاریخ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
لیکن بیسویں صدی میں عالمی حالات مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ اب نئے حالات کے مطابق، ساورست کا رول ثانوی (secondary) بن چکا تھا۔ اب ترکی میں اسلام کے فروغ کے لیے ضرورت تھی کہ وہاں غیر سیاسی دائرے میں ایک مضبوط تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔ قدیم زمانہ سیاسی اقتدار کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ اس کے بجائے اداروں (institutions) کا زمانہ ہے، یعنی غیر سیاسی شعبوں میں پرامن تنظیمیں بنانا، مثلاً تعلیم، صحافت، سماجی ترقی کے ادارے، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا استعمال، وغیرہ۔ نئے دو کے مواقع کو استعمال کرنے میں زوال یافتہ سیاسی نظام ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اتاترک کا کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسی نوعیت کا ایک آپریشن تھا۔ اس کے نتیجے میں ترکی میں کھلے پن (openness) کا نیا دور آیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے حق میں غیر سیاسی دائرے میں ایک تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔
مابعد اتاترک دور (post-Ataturk period) میں ترکی میں کچھ ایسے رہنما اٹھے جو نئے دور کے مواقع کو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں منظم طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ان نئے ترک رہنماؤں میں سے دور رہنما خصوصی اہمیت رکھتے ہیں— ایک، بدیع الزماں سعید نورسی، اور دوسرے استاد محمد فتح اللہ گولن۔ نئے ترکی کی تعمیر میں ان دونوں کا نمایاں حصہ ہے۔ بدیع الزماں سعید نورسی 1876 میں پیدا ہوئے اور 1960 میں اُن کا انتقال ہوا۔ انھوں نے جزئی طور پر سیاست میں حصہ لیا، لیکن جلد ہی اُن پر سیاست کی برائی واضح ہوگئی اور انھوں نے یہ کہہ کر سیاست سے علاحدگی اختیار کرلی: أعوذ بالله من الشيطان ومن السياسة۔
سعید نورسی کی تحریک کو نور تحریک کہا جاتا ہے۔ اُن کا طریقہ پرامن دائرے میں غیر سیاسی انداز میں کام کرنا تھا۔ اس طرح کام کر کے وہ مسلمانوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچانا چاہتے تھے۔ وہ دورِ جدید میں مسلمانوں کے احیاء نو کے علم بردار تھے۔ سعید نورسی کے ایک سیرت نگار کے الفاظ میں، ان کا مشن اسلامی تہذیب کی تعمیر نو (rebuilding of Islamic civilization) تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues