ترکی کی اسلامی تاریخ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
قسطنطنیہ کا موجودہ نام استنبول ہے۔ ترکی میں متعدد صحابہ کی قبریں ہیں۔ ابو ایوب انصاری کی قبر اُن میں سے ایک ہے۔
میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری اور دوسرے صحابہ عرب میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ پر مشقت سفر کر کے ترکی پہنچے اور پھر وہ یہاں کی سرزمین میں مدفون ہو گئے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آیا جو 632 عیسوی میں عرب کے میدان عرفات میں پیش آیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب کو خطاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: إن الله بعثني رحمةً للناس كافةً فأدّوا عنّي (معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم الحديث: 3438) یعنی اللہ نے مجھے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے اس پیغام رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچادو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے مطابق، آپ کے اصحاب، عرب کے باہر نکلے اور اطراف کے ملکوں میں وہ آپ کا پیغام پہنچانے لگے۔ مگر یہ جدید کمیونیکیشن سے پہلے کا زمانہ تھا۔ چناں چہ ایک حد پر پہنچ کر اُن کا دعوتی قافلہ رک گیا اور تمام انسانوں تک پیغام رسانی کا پیغمبرانہ مشن اُس وقت فطری طور پر، اپنی تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
اس معاملے کی ایک علامتی مثال عقبہ بن نافع التابعی (وفات: 63 ہجری) کی ہے۔ عقبہ بن نافع ایک دعوتی گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے افریقہ کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں ان کے سامنے اٹلانٹک سمندر حائل ہو گیا۔ یہاں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: اللهم إنّي لو أعلم وراء هذا البحر بلداً لَخُضْتُه إليه حتى لا يُعبد أحد دونك (خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے)۔
استنبول میں جب میں صحابی رسول کی قبر کے سامنے کھڑا تھا، اْس وقت یہ پوری تاریخ میرے ذہن میں تازہ ہوگئی۔ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے پیغمبر اسلام کے اصحاب جو اپنے دعوتی مشن کے تحت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues