پیغمبر کا مشن
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
ترکی پہنچے اور یہاں کی زمین میں دفن ہو گئے، وہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ــــ اے امت محمد، تم کہاں ہو۔ اٹھو اور پیغمبر اسلام کے مشن کی تکمیل کرو، قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں ہم نے پیغمبر کے مشن کو یہاں تک پہنچایا تھا۔ اب تم بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں ہو۔ تم اٹھو اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے۔ زمین کے آخری حصے تک پیغمبر کے دعوتی مشن کو پہنچادو۔
پیغمبر کا مشن
پیغمبر کا مشن کیا ہے، اس کو قرآن میں انذار و تبشیر (20:17) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں کو باخبر کرنا، تاکہ آخرت میں جب تمام لوگ حشر کے میدان میں حاضر ہوں تو خدا کے سامنے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو اس تخلیقی منصوبے کی خبر نہ تھی۔ پیغمبرانہ مشن کی اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رسلاً مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس علی الله حجة بعد الرسل (165 :4) یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے :
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God. جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے: Turkey is like a geographical bridge between East and West. ترکی کی یہ جغرافی حیثیت بظاہر خدا کے تخلیقی منصوبہ کا ایک خاموش اعلان ہے۔ ترکی کے بارے میں خدا کو یہ منظور ہے کہ وہ حکمت نبوت (prophetic wisdom) کو مشرق سے لے اور اس کو مغربی اقوام تک پہنچائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues