Al-Risala · November 2012 · page

پیغمبر کا مشن

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

قدیم زمانے میں ترکی دو بڑے ایمپائر کی سیٹ رہا ہے۔ بازنطینی ایمپائر اور عثمانی ایمپائر اس خصوصی تاریخ کی بنا پر ترکی میں بہت زیادہ تاریخی یادگاریں ہیں جو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں سفر اور کمیونیکیشن کی بنا پر ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا ہے جس کو عالمی سیاحت (international tourism) کہا جاتا ہے۔ ترکی اس اعتبار سے چند ٹاپ کے سیاحتی ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں مسلسل آتے ہیں۔ سال 2011 میں ترکی میں دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد 31 ملین سے زیادہ تھی۔ ترکی میں آنے والے یہ لوگ سیکولر اصطلاح کے مطابق، سیاح (tourist) ہیں، لیکن اسلامی اصطلاح کے مطابق، وہ مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے ہر عورت اور مرد اس کا ضرورت مند ہے کہ اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس کی اپنی قابل فہم زبان میں پہنچایا جائے۔ ان سیاحوں کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مدعو خود داعی کے دروازے پر آکر دستک دے رہا ہے۔ وہ ترکی کے مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ تمھارے پاس پیغمبر کا لایا ہوا خدائی کلام (Word of God) ہے۔ ہم تمھارے دروازے پر موجود ہیں۔ لاؤ وہ کلام ہم کو عطا کرو: We are here. Give us the Word of God you have received from the Prophet of Islam. اکیسویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والی یہ صورت حال، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، زیادہ بڑے پیمانے پر عین وہی ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں نسبتاً محدود پیمانے پر وجود میں آئی تھی۔ اس صورت حال کی حیثیت ایک دعوتی امکان (dawah opportunity) کی ہے۔ امت مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ اس امکان کو دعوت الی اللہ کے لیے اُسی طرح استعمال کرے جس طرح ساتویں صدی میں پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اس کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ اُس وقت مکہ مشرکانہ کلچر کا مرکز بنا ہوا تھا، حتی کہ خود مقدس کعبہ میں بھی کئی سو بت رکھے ہوئے تھے۔ اس مشرکانہ کلچر کی بنا پر ایسا تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page