پیغمبر کا مشن
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲، صفحہ ۳۶
عرب کے مختلف حصوں سے لوگ برابر مکہ آتے تھے۔ آج کل کی اصطلاح میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مکہ کے مشرکانہ مرکز ہونے کی بنا پر عرب میں ایک قسم کی مذہبی سیاحت (religious tourism) وجود میں آ گئی تھی۔ مکہ ان ’’مذہبی سیاحوں‘‘ کا مقامِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ یہ اجتماعات اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے، مشرکانہ اجتماعات تھے، لیکن اسی کے ساتھ یہ لوگ پیغمبرِ اسلام کے داعیانہ مشن کے لیے سامعین (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔ قدیم مکہ میں پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر روزانہ ان کے اجتماعات میں جاتے اور قرآن سنا کر ان کو دین حق کا پیغام پہنچاتے۔ اس لیے اصحابِ رسول کو ’’مقری‘‘ کہا جانے لگا، یعنی قرآن پڑھ کر سنانے والا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل تک پیغمبرِ اسلام کا لایا ہوا خدائی پیغام پہنچ جائے۔ یہ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے کی بات ہے۔ اُس وقت صرف یہ ممکن تھا کہ خدا کے کلام (قرآن) کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیا جائے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔ مگر اب دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آ چکا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن یا اس کا ترجمہ کتابی شکل میں تیار کر لیا جائے اور اس کو مطبوعہ صورت میں لوگوں تک پہنچایا جائے۔ گویا ساتویں صدی کے داعی اگر قرآن کے مقری بن کر دعوت کا کام انجام دے رہے تھے تو اکیسویں صدی کے داعی کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن کر اسی پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھنا ہے۔ کسی گروہ کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اس کو دنیا میں نظریاتی قائد کا درجہ حاصل ہو۔ دعوت الی اللہ کا کام ہی وہ کام ہے جو امتِ مسلمہ کو موجودہ زمانے میں نظریاتی قیادت کا درجہ عطا کر سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے۔ اس مشن کے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقی علی ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ اس حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کا پیغام
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues