امریکا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
امریکہ میں کئی ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو نظام خلافت کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نظام خلافت کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً وہ نظام منافقت پر قائم ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعۃً نظامِ خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ امریکا کی شہریت ختم کر دیجیے ۔ کیوں کہ شہریت کے فارم پر دستخط کرنے کے بعد اس قسم کی باتیں کرنا اگر بالاعلان ہو تو وہ ملک سے غداری ہے، اور اگر اعلان کے بغیر ہو تو وہ منافقت ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا فیشن وجود میں آیا ہے جس کو میں منافقت کا فیشن کہوں گا۔ میں نے کہا عرب دنیا میں الاخوان المسلمون ( قائم شده : 1928) کا فکر کافی پھیلا۔ اسی طرح بر صغیر ہند میں جماعت اسلامی (قائم شده : 1941) کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ دونوں کا مشترک فکر یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا سیاسی اور اقتصادی نظام ایک باطل نظام ہے۔ اس نظام کے ساتھ مسلمان کا تعلق منازعت کا ہونا چاہیے ، نہ کہ مصالحت کا ۔ مگر آج عرب دنیا اور غیر عرب دنیا دونوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس ” باطل نظام“ کے تحت مادی فوائد حاصل کرنے کے لیے عملاً ٹوٹ پڑے ہیں۔ اگر چہ ان کا ذہن بدستور وہی ہے جو پہلے تھا۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ ہے ، اور ڈبل اسٹینڈرڈ ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی اتری تھی ، اُس میں دعوت کا حکم شامل تھا۔ یہ وحی تھی: اقرأ ( 96 : 1)۔ اقرأ کا مطلب پڑھنا بھی ہے اور پڑھ کر سنانا بھی ، یعنی قاری بھی اور مقری بھی۔ اقرأ کا مطلب اگر محض پڑھ ہو تا تو رسول اللہ صرف شخصی طور پر قرآن کی تلاوت کرتے ، یا کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھتے ۔ اس کے برعکس ، آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کے پاس جا کر آپ اُن کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقرأ کا مطلب پڑھ کر سنانا تھا ، یعنی دعوت بذریعہ قرآت قرآن۔ یہی کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی کام صحابہ نے کیا۔ اس کے مطابق ، رسول اور اصحاب رسول مقری قرآن تھے۔
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ایسی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues