Al-Risala · February 2012 · page

Sir, this is a spiritual gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

خواجہ کلیم الدین صاحب کا مکان ہے۔ بن سلیم فلیڈ یلفیا کا ایک گاؤں ہے جس کو یہاں کی زبان میں کنٹری سائیڈ (countryside) کہا جاتا ہے۔ انڈیا میں گاؤں کا تصور ایک پس ماندہ بستی کا ہوتا ہے، لیکن امریکا میں گاؤں اتنے ہی زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں جتنا کہ شہر ۔ یہاں کے گاؤں کا انفراسٹرکچر اتنا ہی اچھا ہوتا ہے جتنا کہ شہر کا انفراسٹرکچر۔ مزید یہ کہ یہاں گرینری (greenery) بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اکثر لوگ رہائش کے لیے شہر کے مقابلے میں، گاؤں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ 27 جون 2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد ساتھیوں کی کلاس ہوئی۔ اس میں میں نے کچھ تربیتی باتیں کہیں۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ عام طور پر لوگ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتے ہیں۔ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھ پاتے۔ مثلاً اس سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی، جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ جدید اصطلاح میں ایسے لوگوں کو امیگرنٹ (immigrant) کہا جاتا ہے۔ یہ امیگرنٹ لوگ زیادہ تر تعلیم یافتہ تھے۔ یہاں آکر وہ یہاں کے مختلف ترقیاتی شعبوں میں سروس کرنے لگے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکا کو امریکیوں نے ترقی نہیں دی ہے، بلکہ امیگرنٹ لوگوں نے ترقی دی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو یہ امیگرنٹ لوگ خود اپنے ملک کو کیوں ترقی نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ امریکا میں میرٹ (merit) کا اصول ہے۔ یہ اصول لوگوں کے اندر عمل کا محرک (incentive) پیدا کرتا ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ رٹرن (return) پاسکیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امریکا کو مسٹر امیگرنٹ (Mr Immigrant) نے ترقی نہیں دی، بلکہ امریکا کو مسٹر انسینٹیو (Mr Incentive) نے ترقی دی۔ امریکا کے سفر میں کئی امریکی مسلمانوں سے 9/11 (2001) کے سانحے کے موضوع پر بات ہوئی ۔ ہر ایک نے خود ساختہ انداز میں اس کی تاویل کی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریقہ دیانت داری (honesty) کے خلاف ہے۔ جب آپ امریکا میں رہتے ہیں اور آپ نے یہاں کی شہریت کے فارم پر اُس کی شرطوں کو قبول کرکے اْس پر دستخط کیا ہے تو اب آپ کو پورے معنوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page