Al-Risala · December 2012 · page 39

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲، صفحہ ۳۹

سوال وجواب سوال عام طور پر کہا جاتا ہہے- کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا بہت ضروری ے ۔ براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور) جواب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئا (3:120)

یعنی اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ گویا کہ سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقوی کی روش اس کا توڑ ہے۔ قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقوی کی روش پیدا کرکے ہی سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ قانون فطرت کے تحت ’’سازش‘‘ کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مثبت ردِ عمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں۔

جس چیز کو ’’سازش‘‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امرِ فطری ہے۔ اس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی سے ہے۔ یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پر دی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لا حاصل طور پر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود اشتعل نہ ہوں مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں اصل حقیقت تدبیرِ کار کی ہے، نہ کہ سازش سے باخبر ہونے کی۔ اسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ اے مسلمانو، تم سازش سے باخبر رہو، بلکہ یہ فرمایا کہ تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو۔ صبر کی روش اختیار کر کے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے۔ سوال ایک منٹ آیا کہ اس میں آج کبھی اچھے مجتمع نہیں ہو گئے۔ ک ایک حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کی مرا ہی پرس ہیں ہوئیں۔ اس حدیث کا ب لیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page