السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
اس کو واضح فرمائیں ۔ (حافظ ابو الحکم محمد دانیال ، بی ایس سی ، پٹنہ ، بہار ) جواب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن أمتي لا تجتمع على الضلالة (ذخيرة الحفاظ للقيسراني، 1/364) یعنی میری امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت محمدی کے افراد جس چیز پر مجتمع ہو جائیں، وہ لازماً حق ہو گا ۔ اس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام ضلالت کے وقت بھی امت محمدی کے کچھ افراد ایسے ہوں گے جو ہدایت پر قائم رہیں گے اور وہ حق کی نمائندگی کریں گے۔ قانون فطرت کے مطابق، امت محمدی میں بھی انحراف آئے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ امت کا کوئی فرد بھی اس انحراف سے محفوظ نہ رہے۔ حدیث کے اس مفہوم کی تصدیق ایک اور روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أن تستجمعوا كلكم على الضلالة (مسند إسحاق بن راهويه، رقم الحديث: (363) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا، اُس وقت بھی کچھ افراد اس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔
امت محمدی کے بارے میں یہ بات کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں۔ یہ دراصل ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ امت محمدی کی بنیاد جس دین پر قائم کی گئی ہے، اُس کا متن کامل طور پر ایک محفوظ متن ہے۔ پیغمبر اسلام کی یہ ایک استثنائی صفت ہے کہ آپ پر اتارا ہوا قرآن پوری طرح اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت بھی تاریخی طور پر پوری طرح معلوم ہے۔ پیغمبر اسلام کا کلام بھی مستند کتابوں میں محفوظ ہو چکا ہے۔ پیغمبر اسلام کالا یا ہوادین اپنے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے، پوری طرح معلوم اور محفوظ ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی ضمانت بن گئی ہے کہ امت کے زوال یا انحراف کے دور میں بھی دینِ اسلام کا ماخذ پوری طرح محفوظ ہو اور حق کے طالب افراد ہمیشہ اِس سے دینِ خداوندی کو اخذ کر کے ہدایت پر قائم رہیں ۔ امت محمدی میں دین سے انحراف عمومی ہو سکتا ہے، لیکن وہ کلی کبھی نہیں ہوگا۔
سوال
کہا جاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہو گیا اور افغانستان جیت گیا۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues