السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
اس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کے اس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کر رہا ہے، وہ سب اس کے لیے الٹے نتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے۔ براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (عبدالباسط عمری، قطر)۔
جواب
افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اس سے وہ نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں۔ کوئی بھی منفی تبصرہ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا۔ امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے، تو اس کا مقصد اصلاً القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت (2011) کے بعد یہ مقصد ایک حد تک حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن امریکی قائدین کو غالباً اس کا اندازہ نہ تھا کہ اُن کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس اقدام کے رد عمل میں امریکا کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہوگی، اس کا کوئی توڑ ممکن نہ ہوگا۔ امریکی افسر نے جو کچھ کہا وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے۔ اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس جنگ میں افغانستان کی جیت ہوئی ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہوگئی ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو۔ اس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ برآمد کرنے والا ہو۔ فریق ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں۔ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق، قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو کچھ نقصان پہنچا، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے، وہ تعمیر و ترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کو امریکا بھیج رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues